تل ابیب،13فروری(ہ س)۔اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی تازہ ترین ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ٹرمپ یقین رکھتے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ ایک اچھے جوہری معاہدے کے لیے شرائط کی تیاری کر رہے ہیں۔لیکن نیتن یاہو ایران اور اس کے ساتھ کسی اچھے معاہدے کے لیے اپنے شکوک ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔نیتن یاہو نے ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد ساتویں مرتبہ ملاقات کی ہے۔ ان کی ہر ملاقات میں ایران کے خلاف حکمت عملی اور مشترکہ لائحہ عمل اہم نکتہ رہا ہے۔ اس بار بھی انہوں نے صدر ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں سخت موقف لیں۔نیتن یاہو نے کہا صدر ٹرمپ یقین رکھتے ہیں کہ ایرانیوں کو پہلے ہی سمجھ آگئی ہے کہ ان کا کس سے پالا پڑا ہے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار واشنگٹن سے اسرائیل واپس روانہ ہونے سے قبل ویڈیو بیان میں کیا ہے جو ان کے آفس نے جاری کیا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کے ساتھ کوئی متعین معاہدہ نہیں ہوا۔ جبکہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری رہے گی۔ انہیں یقین ہے کہ وہ حقائق کی بنیاد پر ایسی شرائط رکھ رہے ہیں جن کے نتیجے میں ایران اب سمجھنے لگا ہے کہ پچھلی مرتبہ کسی معاہدے پر نہ پہنچ کر ایران نے غلطی کی تھی۔اس لیے ایران کو اب چاہیے کہ وہ اچھے معاہدے کی طرف آجائے۔نیتن یاہو نے کہا میں آپ سے یہ چھپاؤں گا نہیں کہ میں نے صدر ٹرمپ سے بات کرتے ہوئے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اور اس امر پر بھی شک ظاہر کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو جائے گا۔نیتن یاہو نے کہا اگر کوئی ایسا معاہدہ ہوتا ہے تو اس میں ہمارے خیالات اور موقف کو پیش نظر رکھ کر معاہدہ کیا جائے۔نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ اس سلسلے میں ضروری ہے کہ ایران کے بیلیسٹک میزائل پروگرام کو سامنے رکھا جائے اور فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس، یمنی مزاحمتی گروپ حوثیوں اور لبنانی حزب اللہ کی مدد کرنے سے ایران کو روکا جائے۔ کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مسئلہ صرف جوہری پروگرام کا نہیں ہے۔ مسئلہ اس سے زیادہ پھیلا ہوا ہے۔بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ ایک معاہدہ ہوجائے گا۔ لیکن اگر ہم معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اب کیا نتیجہ نکلتا ہے۔امریکی صدر نے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کا ذکر کیا ہے کہ اگر انہوں نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا تو یہ کارروائی ہو سکتی ہے۔یاد رہے پچھلے سال مذاکرات کا آخری دور 12 روزہ جنگ شروع ہونے کی وجہ سے معطل ہوگیا تھا اور امریکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر بمباری کرنے لگا تھا۔ اس جنگی صورتحال کے باعث ایران نے امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام پر اپنے مذاکرات معطل کر دیے تھے۔
نیتن یاہو ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے خلاف
مقالات ذات صلة
