تہران “سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ” مذاکرات کا خواہاں
عمان 07 فروری (ایجنسی) ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں مذاکرات کر رہے ہیں۔ واشنگٹن یہ جانچنا چاہتا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام اور دیگر معاملات پر سفارتی پیش رفت کے امکانات ہیں یا نہیں، اس نے فوجی کارروائی کے امکان کو بھی خارج نہیں کیا ہے۔ایران نے اصرار کیا ہے کہ عمان کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت کا مرکز صرف اس کے جوہری پروگرام پر ہو گا، جبکہ امریکہ خطے میں عسکریت پسند گروہوں کے لیے تہران کی حمایت اور اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی بات کرنا چاہتا ہے۔جون میں جوہری تنصیبات پر حملوں کے ساتھ ایران کے ساتھ اسرائیل کی جنگ میں امریکہ کے شامل ہونے کے بعد سے دونوں کے درمیان یہ پہلی بات چیت ہے۔ایران نے کہا کہ وہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارت کاری کا راستہ اختیار کر رہا ہے لیکن اپنی آنکھیں کھلی رکھے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا، ’’ایران کھلی آنکھوں اور گزشتہ سال کی یادوں کے ساتھ سفارت کاری میں داخل ہو رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’وعدوں کی پاسداری ضروری ہے۔ برابری کی بنیاد، باہمی احترام اور مشترکہ مفاد محض نعرے نہیں بلکہ ایک پائیدار معاہدے کے ستون ہیں۔‘‘جمعہ کے روز شروع ہونے والے مذاکرات سے قبل عراقچی نے اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران نے عمان کی ثالثی میں امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات سے قبل خود کو امریکہ کی جانب سے کسی بھی ’’غیر معمولی مطالبات یا مہم جوئی‘‘ کے خلاف دفاع کے لیے تیار رکھا ہے۔مسقط میں ہونے والی بات چیت میں امریکہ کی نمائندگی خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کر رہے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔یہ میٹنگ ایران میں مذہبی قیادت کے خلاف ملک گیر احتجاج کی لہر کے عروج کے تقریباً ایک ماہ بعد ہو رہی ہے، جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، اور جسے انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق بے مثال کریک ڈاؤن کے ذریعے دبایا گیا۔ادھر وائٹ ہاؤس کہا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ نمٹنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی پسند سفارت کاری ہے اور وہ یہ دیکھنے کے لیے انتظار کریں گے کہ اعلیٰ سطحی مذاکرات میں کوئی معاہدہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ ان کے پاس فوجی آپشنز بھی موجود ہیں۔عمان میں مذاکرات کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کو رد نہیں کر رہے۔ جمعرات کو ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کہا، ’’وہ مذاکرات کر رہے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم انہیں نشانہ بنائیں، ہم وہاں ایک بڑا بحری بیڑا بھیج رہے ہیں۔‘‘ ٹرمپ دراصل طیارہ بردار بحری جہازوں کے گروپ کا حوالہ دے رہے تھے، جسے وہ بار ہا ’’آرماڈا‘‘ کہہ چکے ہیں۔امریکہ نے پہلے کہا تھا کہ وہ چاہتا ہے کہ بات چیت میں ایران کے میزائل ہتھیاروں اور دیگر مسائل کو شامل کیا جائے، جب کہ تہران نے اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے پر اصرار کیا ہے۔ یہ واضح نہیں تھا کہ آیا یہ اختلاف حل ہو گیا ہے۔ٹرمپ نے ابتدا میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر تہران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی اور حتیٰ کہ مظاہرین سے کہا تھا کہ ’’مدد آ رہی ہے‘‘۔ لیکن حالیہ دنوں میں ان کی توجہ ایرانی جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر مرکوز رہی ہے، جس کے بارے میں مغرب کو خدشہ ہے کہ اس کا مقصد ایٹم بم بنانا ہے۔عمان نے 2025 میں ایران اور امریکہ کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں ثالثی کی تھی، جو اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ شروع ہونے تک جاری رہے تھے۔دریں اثنا وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے آنے والے مذاکرات کے بارے میں پوچھے جانے پر صحافیوں کو بتایا کہ ’صدر کی سفارت کاری ہمیشہ ان کا پہلا آپشن ہوتی ہے جب دنیا بھر کے ممالک سے نمٹنے کی بات آتی ہے، چاہے وہ ہمارے اتحادی ہوں یا ہمارے مخالف۔‘
ایران نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ واشنگٹن اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے جمعہ کو سلطنت عمان میں ہونے والے مذاکرات کے دوران “سنجیدگی” کا مظاہرہ کرے گا، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل فوجی آپشن کے استعمال کا اشارہ دے رہے ہیں۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ایک پوسٹ میں لکھا “خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تمام سفارتی مواقع سے فائدہ اٹھانا ہماری (ایرانی حکومت کی) ذمے داری ہے”۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ امریکی فریق بھی ان مذاکرات میں “ذمے داری، حقیقت پسندی اور سنجیدگی” کے ساتھ شرکت کرے گا۔
