ڈھاکہ۔ 3؍ اپریل۔ ایم این این۔بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا شدت اختیار کر گئی ہے جس کے باعث بچوں کی اموات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی سطح پر ویکسینیشن مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔رپورٹس کے مطابق رواں سال اب تک کم از کم 38 بچوں کی ہلاکت خسرہ اور اس سے جڑی پیچیدگیوں کے باعث ہو چکی ہے، جبکہ ملک بھر میں 600 سے زائد کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں۔ یہ وبا دارالحکومت ڈھاکہ سمیت میمن سنگھ، راجشاہی، پبنا اور دیگر علاقوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے، جس سے صحت کا نظام دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق خسرہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو خاص طور پر ان بچوں کو متاثر کرتی ہے جنہیں مکمل ویکسین نہیں لگائی گئی۔ اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کم از کم 95 فیصد آبادی کا ویکسینیٹ ہونا ضروری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ وبا کی ایک بڑی وجہ ویکسینیشن میں کمی اور تاخیر ہے، جس کے باعث کئی بچے اس مہلک بیماری کے سامنے غیر محفوظ ہو گئے۔ ادھر صحت کے حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی بروقت ویکسینیشن یقینی بنائیں اور خسرہ کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کریں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو وبا مزید پھیل سکتی ہے، کیونکہ خسرہ سانس کے ذریعے تیزی سے ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہوتا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر بھی خسرہ کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجہ کئی ممالک میں ویکسینیشن کی شرح میں کمی بتائی جا رہی ہے۔
بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا، بچوں کی ہلاکتوں میں اضافہ، ہنگامی ویکسین مہم کا آغاز
مقالات ذات صلة
