چین کی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت، امن کیلئے مذاکرات پر زور
بیجنگ، 7 اپریل (یواین آئی) چین نے پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی اور ثالثی کوششوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے خطے میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات کو ناگزیر قرار دیا ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق بیجنگ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سفارتکاری اور مذاکرات ہی مسائل کا مؤثر اور پائیدار حل فراہم کر سکتے ہیں۔بیان میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو خطے کے استحکام کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ چین ان اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے اور انہیں مثبت پیش رفت سمجھتا ہے۔چینی وزارت خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں کمی کے لیے مشترکہ کردار ادا کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق چین کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف ممالک جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے متحرک ہیں۔
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں ایک اہم اور نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں سفیر رضا امیری مقدم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں پاکستان کی کوششوں کو “مثبت اور تعمیری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیش رفت فیصلہ کن مرحلے کے قریب پہنچ گئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان دو مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کی تجویز دی گئی ہے، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کرے گا اور مستقل جنگ کے خاتمے کی ضمانتیں چاہتا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 45 روزہ عارضی جنگ بندی امریکی فریق کو عسکری تیاری کا موقع دے سکتی ہے، جو ناقابل قبول ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز کو کھولنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ایرانی مؤقف کے مطابق جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کے انتظام میں نئی حکمت عملی اپنائی جا سکتی ہے، جس میں سلطنت عمان کے ساتھ مشترکہ انتظام کا امکان بھی شامل ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے “نور نیوز” کے مطابق ایک ذریعے نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام ممالک سے “سکیورٹی فیس” وصول کی جا سکتی ہے اور کسی ملک کو اس سے استثنیٰ نہیں ہوگا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے منگل کی شام تک مہلت دی ہے، بصورت دیگر توانائی کی تنصیبات اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے، تاہم انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ جلد کسی معاہدے کے امکانات موجود ہیں۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ 45 روزہ جنگ بندی کی تجویز زیر غور ہے، لیکن اس کی حتمی منظوری ابھی نہیں دی گئی۔ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے کہا ہے کہ مسلح افواج جنگ جاری رکھیں گی جب تک سیاسی قیادت اسے ضروری سمجھے۔ادھر ایرانی ذرائع کے مطابق تہران نے پاکستان کی تجویز پر مشتمل 10 نکات کا جواب دے دیا ہے، جن میں جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کے لیے محفوظ گزرگاہ کا نظام، پابندیوں کا خاتمہ اور تعمیر نو شامل ہیں۔
