ماسکو ،2 اپریل (یواین آئی )مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگی صورتحال اور ایران و امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعے کو روکنے کے لیے روس نے باقاعدہ طور پر ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی ہے روسی صدارتی آفس کے ترجمان نے میڈیا بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ روس خطے میں امن کی بحالی اور جاری تنازعے کے حل کے لیے اپنا بھرپور سفارتی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ترجمان کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بحران کا خاتمہ صرف اور صرف بامقصد مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ روس نے واضح کیا کہ طاقت کا استعمال صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔روسی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ولادیمیر پیوٹن مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔صدر پیوٹن خلیجی ممالک کے اہم رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ مشترکہ سفارتی کوششوں کے ذریعے جنگ کو روکا جا سکے۔ روس کی ترجیح خطے میں توانائی کی ترسیل اور بحری گزرگاہوں (آبنائے ہرمز)کے استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ثالثی کی پیشکش کے ساتھ ہی روس نے مغربی دفاعی اتحاد (نیٹو)پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اپنے موقف کو مزید سخت کر دیا ہے۔
ایران امریکہ کشیدگی:روس کا میدانِ عمل میں آنے کا فیصلہ، ثالثی کی باقاعدہ پیشکش
مقالات ذات صلة
