تہران، 19 مارچ (یو این آئی) ایران کی عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ہونے والی بدامنی کے دوران پولیس اہلکاروں کے قتل اور امریکہ و اسرائیل کے حق میں کارروائیوں میں ملوث تین افراد کو پھانسی دے دی گئی ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوری میں ہونے والے فسادات میں ملوث تین ملزمان کو قتل اور صہیونی ریاست و امریکہ کے حق میں عملی اقدامات کے الزامات میں آج صبح پھانسی دی گئی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ان افراد کا تعلق دو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے قتل سے تھا۔ایرانی حکام کے مطابق، دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران 3,117 افراد ہلاک ہوئے۔ حکام نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ زیادہ تر ہلاکتیں ریاستی کارروائیوں کے نتیجے میں ہوئیں۔فروری میں، جنگ شروع ہونے سے قبل، امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نے 6,872 ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی، اقوام متحدہ کے ایک خصوصی نمائندے کے مطابق، انٹرنیٹ پر سخت پابندیوں کے باعث اصل تعداد 20,000 سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔اس سے قبل رواں ہفتے ایران نے ایک سویڈش شہری کو بھی سزائے موت دی، جسے ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں مجرم قرار دیا تھا، جبکہ سویڈن کے وزیر خارجہ نے اس کی تصدیق کی۔بدھ کے روز ایرانی حکام نے ملک بھر میں سینکڑوں مزید گرفتاریوں اور ان عناصر کے خلاف کارروائیوں کا اعلان کیا۔
یاد رہے کہ ایران نے 2025 میں بھی اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں متعدد افراد کو سزائے موت دی تھی۔
ایران نے پولیس اہلکاروں کے قتل کے جرم میں تین افراد کو پھانسی دے دی
مقالات ذات صلة
