تہران؍منامہ، 08 مارچ (ہ س): مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کے فوجی یونٹ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے کہا کہ اس نے بحرین میں واقع جوفیر نیول بیس کو نشانہ بنایا۔سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے مطابق یہ کارروائی اس مبینہ حملے کے جواب میں کی گئی ہے، جس میں جوفیر بیس سے ایران کے جزیرہ قشم میں واقع سمندری پانی کو صاف کرنے والے ایک پلانٹ پر حملہ کیا گیا تھا۔ تنظیم نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ درست نشانہ لگانے والے ٹھوس اور مائع ایندھن سے چلنے والے میزائلوں سے اس امریکی ٹھکانے پر حملہ کیا گیا۔تاہم اس حملے سے ہونے والے نقصان یا کسی کے ہلاک ہونے کی آزادانہ طور پر تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔اس سے قبل، ایران کے ایک فوجی ترجمان نے وارننگ دی تھی کہ اگر امریکی جنگی جہاز خلیج فارس میں داخل ہوتے ہیں، تو انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ امریکی بحریہ تیل کے ٹینکروں کی حفاظت کے لیے جہاز تعینات کر سکتی ہے۔تیل کے ٹینکروں کے لیے یہ راستہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ وہ اکثر آبنائے ہرمز (اسٹریٹ آف ہارمز) سے ہو کر گزرتے ہیں، جو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے کلیدی سمندری راستہ مانا جاتا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور خلیجی خطے کی سیکورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
ایران کا دعویٰ: بحرین میں واقع امریکی جوفیر فوجی اڈے پر میزائل حملہ
مقالات ذات صلة
