ایران کے بیلسٹک میزائل نے اسرائیل کے دو بڑے شہروں میں تباہی مچادی
تہران، 23 مارچ (یو این آئی) ایران نے اسرائیل کے دو شہروں دیمونا اور عراد پر بیلسٹک میزائل حملہ کردیا، اسرائیلی فوج نے دفاعی نظام کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے حملے کی تصدیق کردی۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ہمارا دفاعی نظام ایرانی حملہ نہ روک سکا، دیمونہ میں جوہری تنصیب سے 13 کلومیٹر دور 40 افراد زخمی ہوئے۔ایرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ حملے میں 20 عمارتیں تباہ، 10 اسرائیلی ہلاک،تقریباً 200 افراد زخمی ہیں، جن میں کم از کم 11 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ایرانی میزائل حملے کے بعد عرد میں ایمرجنسی نافذ کرکے تعلیمی ادارے بند کردیے گئے، اسرائیلی کابینہ کا ہنگامی اجلاس فوری طلب کرکے حملے روکنے میں ناکامی پرتحقیقات شروع کردی گئیں۔اسرائیلی طبی ذرائع کے مطابق متعدد افراد کو شیل کے ٹکڑوں اور بھگدڑ کے دوران چوٹیں آئیں جبکہ کئی افراد شدید خوف و ہراس کا شکار بھی ہوئے۔ ایران کا اسرائیل پر حملہ اسرائیلی حکام کے مطابق کم از کم دو میزائل فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دے کر شہروں میں جا گرے، جس سے عمارتوں میں آگ لگ گئی اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ دیمونا میں اسرائیل کی ایٹمی تنصیبات موجود ہیں، حملوں کا ہدف وہاں کا جوہری تحقیقی مرکز تھا، اور یہ کارروائی ایران کے نطنز جوہری پلانٹ پر مبینہ امریکی حملے کے ردعمل میں کی گئی ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
ایران جنگ کے 25 ویں روز پاسداران انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق چار کے تحت حملوں کی 75 ویں لہر کا آغاز کر دیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے حملوں کی 75 ویں لہر کا نام یا فاطمۃ الزھرہ رکھا گیا ہے۔ حملوں میں صہیونی اور امریکی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق اس لہر میں اسرائیلی فوجیوں کے نئے ٹھکانے اور خفیہ مقامات ٹارگٹ کیے گئے اور مختلف مقبوضہ علاقوں میں صہیونی فوجی پوزیشنز پر حملے کیے گئے۔سعودی عرب کے شہر الخرج میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا۔ پاسداران انقلاب نے بیلسٹک میزائلوں سے امریکی اڈے پر بھی حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ سپاہ پاسداران نے صہیونی اور امریکی افواج کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام دشمن افواج ہماری انٹیلیجنس نگرانی میں ہیں، شہری آبادیوں میں چھپنے والے دشمن بھی نہیں بچ سکیں گے۔ دوسری جانب ایرانی بیلسٹک میزائل کو روکنے کے بعد اس کا ملبہ وسطی اسرائیل میں 8 مقامات پر گرا، جس کے باعث کئی مقامات پر نقصان ہوا ہے۔ ان حملوں کے بعد متعدد اسرائیلی شہروں میں سائرن بج اٹھے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ حملوں اور دھمکیوں کے تناظر میں سخت ردعمل ظاہرکرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر حملہ ہوا تو دشمن کی اہم تنصیبات تباہ کردیں گے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے بجلی گھروں یا اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو اسی شدت سے جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بنیادی ڈھانچے پر حملے دراصل عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی کے تمام نتائج حملہ آوروں کو بھگتنا ہوں گے اور ایران کسی صورت خاموش نہیں بیٹھے گا۔دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے پاور اسٹیشنز یا انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچایا گیا تو دشمن کی توانائی تنصیبات اور تیل کے مراکز کو اس طرح تباہ کیا جائے گا کہ ان کی بحالی ممکن نہیں رہے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس قسم کی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند سطح پر رہ سکتی ہیں۔ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں پر شدید ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو نقشے سے مٹانے کی باتیں دشمن کی مایوسی کی عکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیاں اور دباؤ ایرانی قوم کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔ صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ان تمام ممالک کے لیے کھلی ہے جو ایران کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں، تاہم کسی بھی حملے کا جواب فیصلہ کن انداز میں دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران کے اعلیٰ حکام کے ان بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
