واشنگٹن، 16 فروری (یو این آئی) ایران نے اشارہ دیا ہے کہ اگر امریکہ پابندیاں ہٹانے پر بات چیت کے لیے تیار ہو تو وہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے معاہدے کی پیشکش کر سکتا ہے۔ امریکہ۔ایران جوہری مذاکرات کا ایک نیا دور منگل کے روز جنیوا میں متوقع ہے، جس میں امریکی سفیر اسٹیو وِٹکوف اور صدر ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کشنر کی شرکت کی امید ہے۔یہ مذاکرات چھ فروری کو عمان میں ہونے والے پہلے بالواسطہ دور کے بعد ہو رہے ہیں، جہاں ایران نے یورینیم افزودگی کے حق کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ امریکہ نے بیلسٹک میزائلوں اور حزب اللہ جیسے علاقائی اتحادیوں پر وسیع گفتگو کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ فریقین نے گزشتہ ملاقات کو اچھی شروعات قرار دیا تھا، تاہم بڑے اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اتوار کے روز کہا کہ ایران جوہری معاہدے کے سلسلے میں امریکہ کے ساتھ سمجھوتے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ امریکی انتظامیہ پابندیاں ہٹانے پر بات کرنے کی خواہش مند ہو۔ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اب امریکہ پر منحصر ہے کہ کیا وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ مخلص ہیں تو مجھے یقین ہے کہ ہم معاہدے کی راہ پر گامزن ہوں گے۔ مسٹر روانچی نے بی بی سی سے کہا کہ ’اگر وہ پابندیوں پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں تو ہم اپنے پروگرام سے متعلق مختلف امور پر گفتگو کے لیے تیار ہیں‘۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے معاملے میں سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں اور انتظامیہ اس وقت بات چیت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔سلوواکیہ کے وزیر اعظم رابرٹ فیکو کے ساتھ بریٹیسلاوا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مسٹر روبیو نے کہا کہ ’صدر نے واضح کر دیا ہے کہ وہ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔‘امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھتے ہوئے ایران کے جوہری مسئلے کا سفارتی حل تلاش کر رہا ہے۔ اس دوران ایرانی حکام نے حملے کی صورت میں جواب دینے کی تیاری کا بھی اشارہ دیا ہے، جس کے باعث جنیوا مذاکرات سے پہلے کشیدگی برقرار ہے۔ یہ بات چیت ایسے وقت ہو رہی ہے، جب مسٹر ٹرمپ نے تعمیل کے معاملے میں ایران کے سابقہ ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے ممکنہ معاہدے پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔مسٹر وٹکوف اور مسٹر کشنر عمان کی ثالثی کے ذریعے جنیوا میں ایرانی وفد سے ملاقات کریں گے، جہاں ایران کے جوہری افزودگی پروگرام اور زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخائر پر توجہ دی جائے گی۔ مسٹر روبیو نے تصدیق کی کہ اگر کوئی فوجی کارروائی ضروری ہوئی تو امریکہ پارلیمنٹ سے مشاورت سمیت تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
اگر امریکہ پابندیاں ہٹائے تو ہم معاہدے کے لیے تیار ہیں: ایران
مقالات ذات صلة
