جنگی جہاز کا قریب آنا جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے: پاسداران
پرامن بحری جہازوں پر گولی چلانے والے کو مار دیا جائے گا: ٹرمپ
تہران 13 اپریل (ایجنسی) ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی ) نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے قریب جنگی جہازوں کی آمد کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کریں گے۔ نیوز ایجنسی “فارس” کی جانب سے شائع کردہ پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی فوجی بحری جہاز کی جانب سے کسی بھی بہانے آبنائے ہرمز کے قریب آنے کی کوشش کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ اس کے مرتکب افراد کو سخت سزا دی جائے گی۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ آبنائے خصوصی ضوابط کے تحت سویلین جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے کھلا ہے۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی شروع کرے گا، اور اس بات پر زور دیا تھا کہ کوئی بھی ایرانی جو ہم پر یا پرامن جہازوں پر گولی چلائے گا، اسے مار دیا جائے گا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کسی امن معاہدے تک پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں کیونکہ ایرانیوں نے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کی امریکی شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے ایران کو دی گئی اپنی پیشکش کو بہترین ممکنہ اور حتمی قرار دیا۔”نیویارک ٹائمز” اور ویب سائٹ “ایکسیس” کے مطابق اختلافات میں ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا مطالبہ اور افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہونے سے انکار شامل تھا۔ جے ڈی وینس نے پاکستان میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکی حکام ایران کے ساتھ مذاکرات سے بغیر کسی معاہدے کے رخصت ہو رہے ہیں اور وہ امریکہ واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے بہت لچک دکھائی، لیکن ایران نے امریکی شرائط قبول نہ کرنے کا انتخاب کیا۔دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور اسلام آباد میں تہران کے وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکہ ایران کا اعتماد حاصل نہیں کر سکا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کی صبح اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی کامیابی کا انحصار واشنگٹن کے ضرورت سے زیادہ اور غیر قانونی مطالبات سے بچنے پر ہے۔جنگ سے پہلے تہران کو خدشہ تھا کہ آبنائے کی بندش سے نئی پابندیاں لگیں گی یا فوجی حملہ ہوگا لیکن حملے کے بعد اس نے اپنے بحری جہازوں کے علاوہ باقی تمام کے لیے آبنائے کو تقریباً بند کر دیا تھا۔ تجزیہ کار اس پالیسی کو کم لاگت قرار دیتے ہیں جو بنیادی طور پر ڈرونز، میزائلوں یا چھوٹی کشتیوں کے استعمال کی دھمکی پر مبنی ہے۔ آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے دوبارہ کھولنے کے لیے ایک بڑے فوجی آپریشن اور شاید طویل مدتی قبضے کی ضرورت ہوگی۔”نیویارک ٹائمز” کا خیال ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے متوقع ردعمل یعنی آبنائے ہرمز کی بندش کے ذریعے تیل کی قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔ نہ ہی افزودہ یورینیم کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی حقیقت پسندانہ حکمت عملی تیار کی ہے جسے ایران اپنے ایٹمی پروگرام کی دوبارہ تعمیر کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ اخبار نے کہا ہے کہ ٹرمپ ایرانی تہذیب کو مٹانے کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی دھمکیوں سے اچانک جنگ بندی کی طرف چلے گئے جس نے ان کے اعلان کردہ اہداف میں سے کچھ خاص حاصل نہیں کیا۔”نیویارک ٹائمز” نے بتایا کہ ایران اب بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے آمد و رفت کو محدود کر رہا ہے۔ یہ چیز امریکہ کو ایک شرمناک تزویراتی شکست کے دہانے پر لا رہی ہے۔ تاہم ٹرمپ نے اتوار کو ’’ فاکس نیوز ‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ، ایران اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات انتہائی دوستانہ تھے اور واشنگٹن نے اس دور کے دوران وہ تمام نکات حاصل کر لیے جن کی وہ تلاش میں تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ آخری مراحل میں ماحول بہت دوستانہ ہو گیا تھا اور ہم نے تقریباً وہ سب کچھ حاصل کر لیا جو ہم چاہتے تھے سوائے اس کے کہ انہوں نے اپنے ایٹمی عزائم چھوڑنے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اور سچ کہوں تو، میرے لیے یہ سب سے اہم نکتہ تھا۔ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی پچھلی دھمکیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنبیہات نے تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد کی۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے نئی دھمکیاں دیں کہ اگر ایرانی قیادت اپنے ایٹمی پروگرام سے دستبردار ہونے پر راضی نہ ہوئی تو ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آدھے دن کے اندر ان کا ایک بھی پل کھڑا نہیں رہے گا، ان کا ایک بھی بجلی گھر باقی نہیں رہے گا اور وہ پتھر کے زمانے میں واپس چلے جائیں گے۔
