نیو یارک 16 جنوری (ایجنسی) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے کہا ہے کہ کثیرالفریقی عالمی نظام شدید حملوں کی زد میں ہے جبکہ دنیا کے لیے اس نظام اور اقوام متحدہ کی ضرورت پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔انہوں نے جنرل اسمبلی کے ہال میں نئے سال کے لیے اپنی ترجیحات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اولین ترجیح اقوام متحدہ کا دفاع ہے۔دنیا اس ادارے کے بغیر بہتر نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے اور اس کی جانب سے جدوجہد کرنا ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا، عام حالات میں وہ سبھی کو نئے سال کی مبارک دیتیں لیکن دنیا کی موجودہ صورتحال اور 2026 کے آغاز پر کراکس اور تہران جیسے واقعات کو دیکھتے ہوئے خوشی ایک نایاب شے بن گئی ہے۔انہوں نے غزہ میں جانیں بچانے، افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز بلند کرنے، سوڈان میں لاکھوں شہریوں کے تحفظ، یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کرنے، انسانی حقوق کے دفاع اور عدم مساوات و موسمیاتی بحران کے خلاف جدوجہد میں اقوام متحدہ کے کردار کو اجاگر کیا۔ان کا کہنا تھا کہ 10 دسمبر کو جنرل اسمبلی نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ بعد پہلی مرتبہ ہنگامی انسانی امداد کی ہم آہنگی سے متعلق اپنی جامع سالانہ قرارداد واپس لے لی جس کے بعد انہیں سوچنا پڑا کہ اقوام متحدہ اور کثیرالفریقی نظام درحقیقت کتنے مضبوط یا کمزور ہو سکتے ہیں۔
مفاہمت اور پسپائی میں فرق
جنرل اسمبلی کی صدر نے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون سے رکن ممالک کی وابستگی میں بڑھتے ہوئے فرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب سلامتی کونسل کے بعض مستقل ارکان سمیت رکن ممالک اقوام متحدہ کے منشور کو پامال کریں گے تو کوئی بھی ملک امن سے نہیں رہ پائے گا۔ان کا کہنا تھا، اب وقت آ گیا ہے کہ تمام خطوں کے ممالک مل کر ایک ایسا اتحاد قائم کریں جو اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے کام کرے اور بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق پر مبنی عالمی نظام کا دفاع کرے۔اس کا مطلب اختلافات کم کرنا اور مفاہمت تلاش کرنا بھی ہے، لیکن صرف اس حد تک کہ مفاہمت خوشامد یا کمزوری میں تبدیل نہ ہو۔جب مفاہمت باہمی اتفاق کے بجائے اقوام متحدہ کی بنیادوں کو بتدریج کمزور کرنے یا دانستہ طور پر منہدم کرنے کا ذریعہ بن جائے تو وہ پسپائی کہلاتی ہے۔
اصلاحات اور مالی بحران
جنرل اسمبلی کی صدر نے اقوام متحدہ میں جاری اصلاحاتی عمل پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ اگر رکن ممالک اپنی مالی ذمہ داریاں پوری نہ کریں تو کوئی اصلاح ادارے کے مالی بحران کو حل نہیں کر سکتی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رکن ممالک اپنے ذمے واجب الادا رقوم مکمل اور بروقت ادا کریں تاکہ اقوام متحدہ اپنا کام جاری رکھ سکے۔
نئے سیکرٹری جنرل کا انتخاب
اینالینا بیئربوک نے آئندہ سال منصب سنبھالنے والے نئے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے حوالے سے اعلان کیا کہ امیدواروں کے ساتھ بات چیت کا آغاز 20 اپریل سے ہو گا۔ اس موقع پر ہر امیدوار کو اپنا وژن پیش کرنے اور رکن ممالک کے سوالات کے جواب دینے کا موقع ملے گا۔علاوہ ازیں، سول سوسائٹی کے ادارے بھی امیدواروں سے براہ راست بات چیت کر سکیں گے۔نہوں نے رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ اہل امیدواروں کو بروقت نامزد کریں تاکہ وہ اس عمل میں شامل ہو سکیں اور اس عہدے کے لیے خواتین امیدواروں کی نامزدگی پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جائے۔
اقوام متحدہ کی بقاء کے لیے لڑنا اہم، صدر جنرل اسمبلی
مقالات ذات صلة
