روم، 06 اپریل (اسپوتنک) اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے اعتراف کیا ہے کہ اگر مغربی ایشیا میں حالات مزید بگڑتے ہیں تو ملک کو توانائی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اطالوی اخبار کوریرے ڈیللا سیرا نے اطلاع دی ہے کہ اٹلی کے چار ہوائی اڈوں—میلان، وینس، ٹریویسو اور بولونیا—میں جیٹ ایندھن پر پہلی پابندی نافذ کی گئی ہے۔میلونی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام میں کہاکہ “جب خلیجی ممالک میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر توانائی کی لاگت، کاروبار، روزگار اور بالآخر خاندانوں کی خریداری کی طاقت پر پڑتا ہے۔”وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ عالمی توانائی منڈی میں خلیج فارس کے ممالک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر وہاں پیداوار کم یا بند ہو جائے تو توانائی کی قیمتیں سب کے لیے بڑھ جائیں گی۔ انہوں نے خبردار کیاکہ “اگر حالات مزید خراب ہوئے تو ہم ایسی صورتحال میں پہنچ سکتے ہیں جہاں ہمارے پاس ضرورت بھر توانائی بھی دستیاب نہ ہو، حتیٰ کہ اٹلی میں بھی۔”میلونی نے جمعہ اور ہفتہ کو خلیج فارس کے ممالک کا دورہ کیا۔ ان کے مطابق یہ ممالک اٹلی کی تیل کی ضروریات کا 15 فیصد حصہ پورا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ “میں نے ان سے بات کی کہ کس طرح تعاون کو مضبوط کیا جائے، کشیدگی کو روکنے میں مدد دی جائے اور ان راستوں پر جہاز رانی کی آزادی کو جلد بحال کیا جائے جن پر توانائی، تجارت اور استحکام کا انحصار ہے، جس کی ابتدا آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔”یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران میں اہداف پر حملے شروع کیے تھے، جس سے بڑے پیمانے پر نقصان اور شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ ایران نے جواباً اسرائیلی علاقے اور مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے۔ بڑھتے ہوئے تنازع نے عالمی تیل اور ایل این جی کی فراہمی کے اہم راستے، آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی شپنگ کو تقریباً روک دیا ہے، جس کے نتیجے میں بیشتر ممالک میں ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
مغربی ایشیا کے تنازع سے توانائی بحران کا خدشہ: میلونی
مقالات ذات صلة
