واشنگٹن،14 فروری (یو این آئی) واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جوہری مذاکرات میں ” کھٹن ” رہا ہے اور تنازعے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے ممکنہ طور پر “خوف”پھیلانا لازمی ہوسکتی ہے۔جمعہ کو نارتھ کیرولائنا کے فورٹ براگ میں سروس فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: “معاہدہ کرنا مشکل دکھ رہا ہے۔”انہوں نے مزید کہا، “کبھی کبھی آپ کو خوف ہونا چاہیے۔ یہی واحد چیز ہے جو واقعی صورتِ حال کو حل کرے گی۔”ٹرمپ کے بیانات ،امریکی حکام کی طرف سے ایک اور طیارہ بردار بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے، کی تصدیق کے بعد سامنے آئے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہےکہ اگر مذاکرات ناکام ہو جائیں تو امریکہ تیار رہے گا۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی “بہترین حل” ہو سکتا ہے۔جب ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا وہ ایران میں “نظام کی تبدیلی”چاہتے ہیں تو ٹرمپ نے کہا:”ایسا لگتا ہے کہ یہی سب سے بہتر بات ہوگی۔”انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ “وہ گزشتہ 47 سال سے محض باتیں کرتے رہے ہیں۔ اس دوران ہم نے ان کی باتوں کے باعث بہت سی زندگیاں کھو دیں۔اس سے پہلے انہوں نے ایران کے ساتھ بات چیت کو جاری مگر غیر یقینی قرار دیا تھا۔پچھلے ہفتے عمان نے دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کی سہولت فراہم کی تھی۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ اس ملاقات نے تہران کو واشنگٹن کی سنجیدگی کا اندازہ کرنے کا موقع دیا اور یہ ظاہر کیا کہ سفارتکاری جاری رکھنے کے لیے کافی مشترکہ بنیادیں موجود ہیں۔اگلے مذاکرات کے دور کا اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا۔ٹرمپ نے اپنے خطاب میں پچھلے جون میں ایرانی جوہری مقامات پر کی گئی امریکی بمباری کا بھی حوالہ دیا اور اسے روکے رکھنے کی ایک وسیع حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا۔فورٹ براگ کے دورے میں وہ خصوصی فورسز کے اہلکاروں سے بھی ملے جو 3 جنوری کے آپریشن میں ملوث تھیں، جس میں وینیزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو اغوا کیا گیا تھا۔ٹرمپ نے فوجیوں کی تعریف کی اور ان کے اقدامات کو امریکہ کی بیرونی طاقت کے طور پر مربوط کیا۔ تاہم ان کے خطاب میں واضح سیاسی بیانات بھی شامل تھے۔ٹرمپ نے اپنے ڈیموکریٹک حریفوں پر تنقید کی اور خبردار کیا کہ اگر وہ نومبر کے انتخابات میں کانگریس پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو فوج کو کمزور کر دیں گے۔
صدر کے یہ بیانات انتظامیہ کی اس کوشش کی عکاسی کرتے ہیں کہ تہران کے ساتھ مذاکرات برقرار رکھتے ہوئے دباؤ بھی برقرار رکھا جائے، اور ساتھ ہی یہ اشارہ دیا جائے کہ فوجی آپشنز بھی میز پر موجود ہیں۔
’خوف‘ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں کامیابی کی اہم کنجی:ٹرمپ
مقالات ذات صلة
