انقرہ، 5 فروری (یو این آئی) ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان نے کہا ہے کہ مصر کے ساتھ تعاون علاقائی سلامتی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور انقرہ اس تعاون کو، سرمایہ کاری اور تجارت میں، مؤثر طریقے سے استعمال کرنا چاہتا ہے۔قاہرہ میں ترکیہ۔مصر اقتصادی فورم کے اختتامی اجلاس سے خطاب میں صدر اردوعان نے کہا ہے کہ “ہم، 15 بلین ڈالر تجارتی حجم کے ہدف کے ساتھ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ بھاری مصروفیات جاری رکھیں گے”۔انہوں نے ، اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کے اجلاس میں دونوں فریقین کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات پر تفصیلی بات چیت کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ ملاقاتوں کے دوران باہمی تعلقات کی بنیاد کی مضبوطی اور تمام شعبوں میں تعلقات کی وسعت پر مبنی متعدد سمجھوتوں پر دستخط کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ “عالمی اقتصادیات میں اگر ایک طرف تحفظ پسندی اور دروں بین پالیسیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف خوشحالی کے دوام کے لیے تعاون کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔مجھے اس بات پر قلبی یقین ہے کہ بتدریج مشکل ہوتے اس ماحول میں آپ کے بھی تعاون سے دونوں ملکوں کی اقتصادیات باہم اتحاد و تعاون کے ساتھ مضبوط ہو کر ترقی کی طرف قدم بڑھا سکتی ہیں”۔اردوعان نے کہا ہےکہ مصر، برّ اعظم افریقہ میں ،ترکیہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اس کے ساتھ ہمارا تجارتی حجم 8 بلین ڈالر سے بڑھ چکا ہے۔مصر کی برآمدات میں 7،4 فیصد کے ساتھ ہم تیسرے نمبر پر اور درآمدات میں 3.4 فیصد کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہیں”۔وزرائے تجارت کی سطح پرمتوقع اگلے اجلاس کے انقرہ میں انعقاد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ “ہم اپنے آزاد تجارتی معاہدے کو زرعی مصنوعات تک پھیلانے کے لئے بھی کام کر ر ہے ہیں۔ خاص طور پر وزرائے تجارت کی سطح پر انقرہ میں متوقع اجلاس میں ہمارا ہدف اس سمت میں قابلِ ذکر پیش رفت کرنا ہے”۔صدر اردوعان نے مزید کہا ہےکہ مصر کے مختلف شعبوں میں ترکیہ کی تقریباً 4 بلین ڈالر تک پہنچی ہوئی سرمایہ کاری اس وقت 100,000 مصریوں کو روزگار فراہم کر رہی ہے۔ترک کمپنیاں اعلیٰ برآمدی صلاحیت کے حامل سیکٹروں میں قائدانہ حیثیت رکھتی ہیں اور ترک ٹھیکیداروں نے مصر میں ایک بلین ڈالر سے زائد مالیت کے 27 تعمیراتی منصوبے مکمل کئے ہیں ۔انہوں نے مصر کے ویژن 2030 کے تحت منصوبہ بند 14 نئے اسمارٹ شہروں کی تعمیر میں بھی ترک فرموں کی شرکت کی امید ظاہر کی اور ترک کاروباری برادری پر اعتماد اور ترک کمپنیوں کے ساتھ تعاون پر السیسی کا شکریہ ادا کیا ہے۔
انقرہ کو مصر کے تعاون کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنا چاہتا ہے: اردوعان
مقالات ذات صلة
