ہومInternationalایپسٹین فائلز: ماڈلنگ ایجنٹ کے ذریعے لڑکیوں کو پھنسانے کا انکشاف

ایپسٹین فائلز: ماڈلنگ ایجنٹ کے ذریعے لڑکیوں کو پھنسانے کا انکشاف

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

لندن، 13 مارچ (یو این آئی) برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بدنام زمانہ امریکی سرمایہ کار اور مجرم جیفری ایپسٹین کے لیے جنوبی امریکہ سے کم عمر لڑکیوں کو لانے کے لیے ماڈلنگ ایجنسیوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔تحقیق کے مطابق فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ ژاں لوک برونیل پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے نام پر لڑکیوں کو بیرونِ ملک لے جانے کے لیے بھرتی کرتا اور بعد میں انہیں ایپسٹین کے نیٹ ورک تک پہنچاتا تھا، برونیل بعد میں جیل میں مردہ پایا گیا تھا اور اس پر جنسی زیادتی اور کم عمر لڑکیوں کی بھرتی کے الزامات تھے۔برازیل کے دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والی گلاوسیا فیکیٹے نے بتایا ہے کہ 2004ء میں جب میں صرف 16 سال کی تھی تو برونیل میرے گھر آیا اور اس نے میری والدہ کو ایک ماڈلنگ مقابلے میں شرکت کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔گلاوسیا کے مطابق مجھے ایک مقابلے کے لیے ایکواڈور کے شہر گوایاکیل لے جایا گیا، جہاں 15 سے 19 سال کی لڑکیاں موجود تھیں۔انہوں نے کہا کہ اس دوران مجھے اپنے خاندان سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، جس پر مجھے شبہ ہوا، بعد میں برونیل نے مجھے نیویارک لے جانے کی پیشکش کی، لیکن والدہ نے صاف انکار کردیا، اگر والدہ اجازت دے دیتیں تو شاید میری زندگی کا رخ مختلف ہوتا۔ایک اور برازیلین خاتون، جنہیں رپورٹ میں انا کے نام سے ظاہر کیا گیا، انہوں نے بتایا کہ مجھے ماڈلنگ کے وعدے پر ساؤ پاؤلو بلایا گیا، مگر بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ دراصل ایک جنسی استحصال کا نیٹ ورک تھا۔انا کے مطابق کچھ ہی عرصے بعد مجھے ایک ہوٹل میں جیفری ایپسٹین سے ملوایا گیا، جہاں اس نے مجھے منتخب کیا، بعد ازاں برونیل کی ماڈلنگ ایجنسی کے ذریعے میرے لیے امریکی ویزا بھی حاصل کیا گیا تاکہ میں امریکہ جا سکوں۔دستاویزات کے مطابق برونیل کی ایجنسی ایم سی 2 اور اس سے پہلے کیرین ماڈلز آف امریکہ کے ذریعے مختلف ممالک سے لڑکیوں کو لایا جاتا تھا اور بعض دفعہ کم عمر لڑکیاں بھی شامل تھیں۔برازیل کے وفاقی پراسیکیوٹرز نے اب اس بات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ آیا ملک میں ایپسٹین سے منسلک کوئی بھرتی نیٹ ورک موجود تھا۔حکام کے مطابق اگر یہ ثابت ہوا کہ لڑکیوں کو جنسی استحصال کے لیے لایا جاتا تھا تو یہ انسانی اسمگلنگ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ خوش قسمت تھیں کہ اس نیٹ ورک سے نکل کر اپنی زندگی دوبارہ بنا سکیں، تاہم وہ دیگر متاثرین کے لیے انصاف کی امید رکھتی ہیں۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.