لندن، 15 مارچ ۔ ایم این این۔برطانیہ کے شہر لندن میں واقع معروف باربیکن سینٹر میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی مذاکرے Voices of Faith میں اجمیر شریف درگاہ کے گدی نشین اور چشتی فاؤنڈیشن کے چیئرمین حاجی سید سلمان چشتی نے صوفی ازم اور روحانی خود شناسی کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے انسانیت، محبت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پیغام کو اجاگر کیا۔یہ عالمی مذاکرہ ٹیم ورک آرٹس کے زیر اہتمام اور کامنی اور وندی بنگا فیملی ٹرسٹ کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں دنیا بھر سے ممتاز مفکرین، مذہبی رہنما، دانشور اور ثقافتی شخصیات شریک ہوئیں۔ اس تقریب کا اہتمام سنجے کے رائے کی قیادت میں کیا گیا جبکہ کامنی بنگا اور وندی بنگا بھی اس کے منتظمین میں شامل تھے۔مذاکرے میں بین الاقوامی سطح کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی جن میں سر ٹریور فلپس، مارکس ڈو سوٹائے، جسٹس روہنٹن ایف نریمن، ربی جوناتھن رومین، ربی ڈیبرہ کان ہیرس، لاما کھیمسا رنپوچے، مہول سنگھراجکا، شاوناکا رشی داس، شومیت متر، سشما جانساری، فلپ لٹگینڈورف، نکی گنندر کور سنگھ، مندیپ رائے، جارجینا گوڈون، مشعال حسین اور رزبیہ وستاسپ ہودی والا سمیت دیگر شخصیات شامل تھیں۔اس موقع پر معروف براڈکاسٹر جارجینا گوڈون کے ساتھ گفتگو میں حاجی سید سلمان چشتی نے اجمیر شریف سے وابستہ چشتی صوفی روایت کے عالمگیر پیغام کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ روایت محبت، خدمت، عاجزی اور انسانیت کے اتحاد پر مبنی ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوفی ازم دراصل “خود سے حقیقت تک کے سفر” کا نام ہے۔ ان کے مطابق صوفی بزرگوں کی تعلیمات انسان کو اپنی ذات کی پہچان کے ذریعے خدا کی معرفت تک پہنچنے کا راستہ دکھاتی ہیں۔ جب انسان اپنے دل کی حقیقت کو پہچان لیتا ہے تو مذہب، نسل اور قومیت کی تقسیمیں بے معنی ہو جاتی ہیں اور انسانیت کی خدمت اور ہمدردی کا جذبہ غالب آ جاتا ہے۔حاجی سید سلمان چشتی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں جب دنیا مختلف کشیدگیوں اور سماجی تقسیم کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں روحانی مکالمہ اور بین المذاہب گفتگو امن اور اخلاقی ذمہ داری کو فروغ دینے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اجمیر شریف کے صوفی بزرگ حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتیؒ (غریب نواز( کی روحانی میراث آج بھی دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کر رہی ہے، جن کا عالمگیر پیغام تھا:“سب سے محبت، کسی سے نفرت نہیں۔”تقریب کے اختتام پر مختلف مذاہب اور ثقافتی روایات سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر مکالمے اور تعاون کو فروغ دے کر انسانیت کے لیے ایک مشترکہ اخلاقی اور پرامن مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
لندن میں صوفی پیغامِ محبت کی گونج، حاجی سید سلمان چشتی کا عالمی مذاکرے سے خطاب
مقالات ذات صلة
