اسرائیل کی مغربی کنارے کی زمینیں ’ریاستی ملکیت‘ قرار دینے کی منظوری
فلسطینی علاقوں میں کشیدگی میں اضافہ
مغربی کنارہ،16 فروری (یو این آئی )اسرائیلی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں زمینوں کی رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ان زمینوں کو سرکاری تحویل میں لینا ہے جن کی ملکیت کے دستاویزی ثبوت فلسطینی فراہم نہیں کر سکیں گے۔ نئے قانون کے تحت، اگر کوئی فلسطینی اپنی زمین کی ملکیت ثابت کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو وہ زمین خود بخود اسرائیل کی “ریاستی ملکیت” بن جائے گی۔یہ فیصلہ خاص طور پر “ایریا سی” پر لاگو ہوگا، جو مغربی کنارے کا وہ حصہ ہے جہاں اسرائیل کا مکمل انتظامی اور فوجی کنٹرول ہے۔یہ علاقہ 1990 کی دہائی میں ہونے والے اوسلو معاہدوں کے تحت تین حصوں میں تقسیم کے بعد مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔اس علاقے میں تقریباً تین لاکھ فلسطینی آباد ہیں جن کا ذریعہ معاش ان زرعی زمینوں سے وابستہ ہے۔زمینوں کی رجسٹریشن کا یہ عمل 1967 کی جنگ کے بعد سے معطل تھا، جسے اب دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔اس فیصلے کے بعد فلسطینی قیادت اور عالمی برادری کی جانب سے شدید احتجاج دیکھنے میں آیا ہے:فلسطینی صدارتی دفتر نے اسے “سنگین اشتعال انگیزی” اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکہ اور اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔حماس نے موقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیل اس حربے کے ذریعے ناجائز قبضے کو قانونی شکل دینا چاہتا ہے۔اردن، قطر، مصر اور ترکی نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے امن کی کوششوں کے لیے مہلک قرار دیا ہے۔ اسرائیلی تنظیم ‘پیس ناؤ،نے اسے “زمینوں پر بڑے قبضے” کی کوشش قرار دیا ہے۔اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت نے 2024 میں اپنی رائے میں واضح کیا تھا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ اور وہاں بستیوں کا قیام غیر قانونی ہے۔ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے بستیوں کی تعمیر پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، تاہم وہ ماضی میں باضابطہ الحاق کی مخالفت کر چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں غزہ کو مستحکم اور تعمیر نو کے لیے بڑے عالمی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ رکن ممالک نے انسانی امداد اور تعمیر نو کی کوششوں کے لیے 5 ارب ڈالر سے زیادہ رقم دینے کا وعدہ کیا ہے امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق اس اقدام کو 19 فروری 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں ڈونالڈ جے ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں باضابطہ طور پر آگے بڑھایا جائے گا جہاں ان کے بقول “بورڈ آف پیس” کے اراکین کی ملاقات متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک نے غزہ میں سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس اور مقامی پولیس یونٹس میں خدمات انجام دینے کے لیے ہزاروں اہلکار دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ اکتوبر پیش کیا گیا ان کا منصوبہ، جس کا مقصد غزہ تنازع کا مستقل خاتمہ تھا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر منظور کیا اور اس کے ذریعے ریکارڈ رفتار سے انسانی امداد کی فراہمی اور تمام زندہ و مردہ یرغمالیوں کی حوالگی ممکن ہوئی، تاہم اس منصوبے کی تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔امریکی صدر نے گزشتہ ماہ ڈیووس، سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ایک میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو درجن بانی اراکین نے “بورڈ آف پیس” کا باقاعدہ آغاز کیا اور غزہ کے شہریوں کے لیے ایک جرات مندانہ وژن پیش کیا جو آگے چل کر عالمی امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے حماس کو مکمل اور فوری غیر مسلح ہونے کے وعدے پر عمل کرنا ہوگا، جبکہ حماس کی جانب سے اس بیان پر ابھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ غزہ برسوں سے تنازعات، سیاسی عدم استحکام اور انسانی بحران کا شکار رہا ہے جہاں بار بار کی جھڑپوں نے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا اور شہریوں کو بے گھر کیا۔ٹرمپ نے “بورڈ آف پیس” کو تاریخ کا ممکنہ طور پر سب سے اہم بین الاقوامی ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس کا چیئرمین بننے پر فخر ہے، جبکہ اس کے اراکین، شریک ممالک اور مجوزہ استحکامی فورس کی ساخت سے متعلق مزید تفصیلات 19 فروری کے اجلاس میں سامنے آنے کی توقع ہے۔
