واشنگٹن،27جنوری(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارت کاری اب بھی ایک اختیار کے طور پر میز پر موجود ہے۔پیر کے روز “axios” ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا “وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، میں یہ جانتا ہوں۔ انہوں نے کئی بار رابطہ کیا ہے… وہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں”۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ خطے میں “بڑا بحری بیڑا” بھیجنے کے بعد ایران کے ساتھ صورتحال “غیر مستحکم” ہے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں طیارہ بردار بحری جہاز “یو ایس ایس ابراہم لنکن” بھیجنے کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا “ہمارے پاس ایران کے قریب ایک بڑا بحری بیڑا موجود ہے… جو وینزویلا کے گرد موجود بیڑے سے بھی بڑا ہے”۔ تاہم ٹرمپ نے ان اختیارات پر بات کرنے سے گریز کیا جو ان کی قومی سکیورٹی ٹیم نے انہیں پیش کیے ہیں۔مذکورہ ویب سائٹ نے صورت حال سے با خبر ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ٹرمپ نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ امکان ہے کہ وہ اس ہفتے مزید مشاورت کریں گے اور ان کے سامنے اضافی فوجی اختیارات پیش کیے جائیں گے۔دوسری جانب ایک امریکی عہدے دار نے پیر کو اعلان کیا کہ اگر ایران رابطہ کرنا چاہے تو امریکہ “تعاون کے لیے تیار” ہے۔ روئٹرز کے مطابق مذاکرات کے لیے ایران پر عائد شرائط کے سوال پر عہدے دار نے جواب دیا “میرا خیال ہے کہ وہ شرائط جانتے ہیں… وہ شرائط سے واقف ہیں”۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران نے دوبارہ خبردار کیا ہے کہ خطے کی سکیورٹی کو غیر مستحکم کرنے کی کوئی بھی کوشش نہ صرف اسے نشانہ بنائے گی بلکہ دیگر علاقوں تک بھی پھیل جائے گی۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ان کا ملک “کسی بھی فوجی جارحیت کا ایسا جواب دے گا جو پشیمان کر دینے والا ہو گا”۔ بقائی نے مزید کہا کہ ایران کو اب بھی ایک “جامع ہائبرڈ وار” کا سامنا ہے، جو گزشتہ جون کے دوران اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے کی گئی فوجی جارحیت کا تسلسل ہے۔ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی اور امریکی دھمکیاں حالیہ مہینوں میں روزانہ کی بنیاد پر جاری رہی ہیں، لیکن خطے کے ممالک اچھی طرح جانتے ہیں کہ بدامنی ایک متعدی رجحان ہے اور ان خلفشار کے مقاصد صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ بقائی نے زور دیا کہ تہران آج پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی مندوب اسٹیو وِٹکوف کے درمیان رابطے کی خبروں پر انہوں نے کہا کہ “اس بات میں کوئی حقیقت نہیں ہے”۔یہ بیانات اس وقت سامنے آیا جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے اتوار کو اطلاع دی کہ امریکی لڑاکا طیارے اور آلات مشرق وسطیٰ پہنچ چکے ہیں تاکہ کئی روز تک جاری رہنے والی جنگی تیاریوں کی مشق کی جا سکے۔ اسی طرح، امریکی فوج نے پیر کو اعلان کیا کہ طیارہ بردار جہاز “یو ایس ایس ابراہام لنکن” اور اس کا گروپ مشرق وسطیٰ پہنچ چکا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے گذشتہ ہفتوں کے دوران کئی بار ایران کے خلاف فوجی آپشن کا اشارہ دیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے اپنے بیانات کی شدت میں کمی کر دی۔ ان کے مطابق “ایرانی حکام کی جانب سے مظاہرین کی سزائے موت روکنے کے بعد” انہوں نے یہ نرمی دکھائی۔
ایران کیلئے سفارت کاری کا راستہ اب بھی موجود:ٹرمپ
مقالات ذات صلة
