ہومInternationalکیااسرائیل نے ایران کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے؟

کیااسرائیل نے ایران کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے؟

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

جنگ ختم کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہاہے اسرائیل

امریکہ کو خسارہ ہی خسارہ! 10 دنوں میں ہی صلح کا راستہ تلاش کرتے نظر آ رہے ٹرمپ

ایران کے ساتھ جنگ روکنے پر ٹرمپ نے پوتن سے طویل بات چیت کی

تل ابیب؍واشنگٹن؍ماسکو، 10 مارچ:۔ (ایجنسی) ایران کے خلاف جاری امریکی۔اسرائیلی فوجی کارروائی کے دس دن مکمل ہونے کے بعد اب اس جنگ کے طویل ہونے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کے اندرونی حلقوں میں جنگ کے نتائج اور اس کے بڑھتے معاشی و سیاسی اثرات پر تشویش پیدا ہو گئی ہے، جس کے بعد سفارتی راستہ تلاش کرنے کی باتیں بھی سامنے آنے لگی ہیں۔

اسرائیل میں جنگ کے انجام پر خدشات
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اسرائیلی قیادت کے اندر ایران کے خلاف جاری فوجی مہم کے مستقبل پر سنجیدہ بحث شروع ہو گئی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ فضائی حملوں کے ذریعے ایران کے ایٹمی پروگرام، بیلسٹک میزائل ذخائر اور اسلحہ سازی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، لیکن جنگ کے اختتام کا کوئی واضح خاکہ موجود نہیں۔ بعض اسرائیلی عہدیداروں کا ماننا ہے کہ بنیادی فوجی اہداف حاصل ہونے کے بعد سیاسی راستہ اختیار کرنا زیادہ مناسب ہوگا، کیونکہ جنگ کے طول پکڑنے سے خطے میں کشیدگی اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
جنگ کے پھیلاؤ کا خدشہ
اسرائیلی فوجی منصوبہ سازوں کو خدشہ ہے کہ اگر لبنان میں حزب اللہ کے خلاف بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی کی گئی تو تنازع کئی محاذوں تک پھیل سکتا ہے۔ اسی لیے اسرائیل اس وقت جنوبی لبنان میں محدود کارروائی تک ہی خود کو محدود رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ لبنانی قیادت کے ساتھ رابطے کے لیے بھی تیار ہیں تاکہ لبنانی محاذ پر جنگ بندی کی کوئی صورت نکل سکے۔ ادھر ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ طویل عرصے تک اس تنازع کو جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکہ میں بڑھتی سیاسی اور معاشی پریشانی
دوسری جانب امریکہ میں بھی اس جنگ کے اثرات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیروں نے انہیں جنگ کے جلد خاتمے کے لیے صلح کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ مشیروں کا کہنا ہے کہ طویل جنگ امریکہ کو معاشی اور سیاسی طور پر نقصان پہنچا سکتی ہے، جبکہ آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن ووٹرز بھی ناراض ہو سکتے ہیں۔ ایک تازہ سروے کے مطابق 53 فیصد امریکی شہری ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے مخالف ہیں۔
بھاری اخراجات اور محدود نتائج
رپورٹس کے مطابق ایران پر حملوں کے لیے امریکہ پہلے ہی اربوں ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ ابتدائی دو دنوں میں تقریباً 5.6 ارب ڈالر کے ہتھیار استعمال کیے گئے جبکہ دس دنوں میں یہ اخراجات 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس تجزیوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف فضائی حملوں کے ذریعے ایران میں حکومت کی تبدیلی کا مقصد حاصل ہونا ممکن نظر نہیں آ رہا۔
جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں
ان حالات میں سفارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ تقریباً ایک گھنٹے طویل ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں زیادہ تر بات چیت ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے پر مرکوز رہی۔ کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال، توانائی کی منڈی اور یوکرین جنگ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
جنگ بندی کے امکانات پر عالمی رابطے
روسی حکام کا کہنا ہے کہ پوتن ایران، خلیجی ممالک اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ ممکنہ جنگ بندی کے لیے کوئی قابل قبول فارمولا تیار کیا جا سکے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کے مطابق روس، چین اور فرانس کی جانب سے بھی امن تجاویز پر بات چیت کے لیے رابطے کیے گئے ہیں۔ ان سفارتی کوششوں کو اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ جنگ کے میدان کے ساتھ ساتھ اب مذاکرات کے دروازے بھی کھلنے لگے ہیں۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.