واشنگٹن،15 مارچ (یواین آئی ) امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملہ کرنے کے خطرناک فیصلے کے نتائج بگڑ چکے ہیں۔ سی این این کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملہ کرنے کے فیصلے کے نتائج توقعات کے برعکس سامنے آئے اور اس کے اثرات پیچیدہ صورت اختیار کرچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 28 فروری کی صبح ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں مصروف تھے، جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی۔
انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملوں کا بنیادی مقصد ایران کی اعلیٰ قیادت کو ایک ہی وقت میں نشانہ بنا کر اس کا مکمل صفایا کرنا تھا۔تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایسا ہو بھی جاتا تو اس صورت میں ایران کی نچلی سطح کی قیادت کو فوری طور پر اوپر لا کر نظام کو برقرار رکھا جا سکتا تھا۔ سی این این کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حکام کو امید تھی کہ اس کارروائی کے بعد ایران میں ایک نئی سیاسی صورتحال پیدا ہوگی اور ممکنہ طور پر بہتر تعلقات کے آغاز کی راہ ہموار ہو سکے گی۔ تاہم ابتدائی رپورٹس سے ظاہر ہوا کہ صورتحال توقعات کے برعکس ایک نئے مسئلے کی صورت اختیار کر گئی، کیونکہ وہ افراد بھی حملوں میں مارے گئے جنہیں مستقبل میں قیادت کے لیے موزوں سمجھا جا رہا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ “زیادہ تر وہ لوگ جو ہمارے ذہن میں تھے، مارے جاچکے ہیں۔سی این این کے مطابق مجموعی طور پر امریکی اور اسرائیلی قیادت کو ایران پر حملے کے وہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے جن کی انہیں توقع تھی، جس کے باعث خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
سی این این کی رپورٹ: ایران پر حملے کے منفی اثرات سامنے آ گئے
مقالات ذات صلة
