ہومInternationalجنگ بندی یا جنگ: امریکہ کو کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا:...

جنگ بندی یا جنگ: امریکہ کو کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: ایران

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

لبنان پر سفارتی تضاد نے امریکہ۔ایران امن معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا

تہران، 9 اپریل (یو این آئی) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جاری جنگ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی شرائط واضح ہیں اور واشنگٹن کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جنگ بندی چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں کام ساتھ نہیں چل سکتے، دنیا لبنان میں قتل عام دیکھ رہی ہے، گیند اب امریکی کورٹ میں ہے، دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکہ اپنے وعدوں پر عمل کرے گا؟یاد رہے کہ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو تہران امریکہ کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی سے دستبردار ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل 28 فروری سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان میں بھی فضائی اور زمینی حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جو دو مارچ کو حزب اللہ کے سرحد پار حملے کے بعد شروع ہوئے، حالانکہ نومبر 2024 میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ عارضی جنگ بندی کو لبنان کے معاملے پر متضاد بیانات اور جاری فوجی کارروائیوں کے باعث شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جس سے خطے میں امن عمل غیر یقینی کا شکار ہو رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایک جانب امریکہ اور اس کے اتحادی یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا، جبکہ ایران اور اس کے حمایتی گروپ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ لبنان بھی اس معاہدے کا حصہ ہے۔ اسی تضاد کے باعث اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف فضائی حملے جاری ہیں، جسے ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر یہ کارروائیاں نہ رکیں تو مذاکراتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ “سفارتی ڈبل اسپیک” یعنی مختلف فریقین کی جانب سے ایک ہی معاہدے کی متضاد تشریحات، امن عمل کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ایک طرف جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب زمینی حقیقت میں لڑائی جاری ہے۔ مزید برآں، ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان کو شامل کیے بغیر کسی بھی جنگ بندی کو مکمل نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ حزب اللہ اس تنازع کا اہم فریق ہے۔ ادھر امریکہ اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان میں جاری کارروائیاں الگ نوعیت کی ہیں اور انہیں جنگ بندی کے دائرے میں شامل نہیں کیا گیا، جس سے معاہدے کی شقوں پر ابہام مزید بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس ابہام کو دور نہ کیا گیا تو جنگ بندی جلد ہی ناکام ہو سکتی ہے، کیونکہ فریقین ایک دوسرے پر خلاف ورزی کے الزامات لگا رہے ہیں جبکہ زمینی سطح پر کشیدگی کم ہونے کے بجائے برقرار ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ اس کی واضح اور مشترکہ تشریح بھی ضروری ہے، ورنہ سفارتی تضادات کسی بھی پیش رفت کو ناکام بنا سکتے ہیں۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.