واشنگٹن، 22 جنوری (یو این آئی) گرین لینڈ میں صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہی دلچسپی نہیں بلکہ اس سے قبل گزشتہ کئی دہائیوں سے یہاں بااثر کاروباری شخصیات سرمایہ کاری کرتی آرہی ہیں۔یہ خطہ خاموشی کے ساتھ نجی سرمایہ کاری، ٹیک ارب پتیوں اور وینچر کیپیٹل حلقوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، یہ محض عالمی طاقتوں یا حکومتی بیانات تک محدود نہیں۔صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کو قومی سلامتی کے لیے ایک اہم خطہ قرار دیتے ہوئے اس پر امریکی کنٹرول کی ضرورت پر زور دیا ہے۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دلچسپی کے پس منظر میں ٹیکنالوجی سیکٹر کے معاشی مفادات نمایاں طور پر سامنے آرہے ہیں۔گرین لینڈ کا وسیع رقبہ، نایاب معدنی ذخائر اور کم آبادی اسے جدید صنعتی ضروریات کے لیے ایک اہم مقام بناتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکی ٹیک ارب پتی ٹرمپ کی 2024 کی صدارتی انتخابی مہم کے بڑے مالی معاونین میں شامل رہے، جس کے بعد گرین لینڈ سے متعلق امریکی پالیسی میں سرگرمی دیکھنے میں آئی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار اگست 2019 میں اپنی پہلی صدارت کے دوران گرین لینڈ کے حوالے سے بات کی تھی اور اسے ایک بڑا رئیل اسٹیٹ معاہدہ قرار دیا تھا، تاہم اس وقت انہوں نے اسے اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کیا تھا۔حالیہ برسوں میں ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو بار بار ایک اہم موقع قرار دیا جارہا ہے، انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے متعدد مواقع پر کہا کہ امریکا نے ماضی میں گرین لینڈ کے حوالے سے ایک موقع گنوا دیا۔عہدہ صدارت سنبھالنے سے قبل انہوں نے گرین لینڈ پر امریکی ملکیت اور اس پر مکمل کنٹرول کو قطعی ضرورت قرار دیا تھا۔فوربز کی رپورٹ کے مطابق بل گیٹس، مائیکل بلومبرگ اور جیف بیزوس 2019 سے کوبولڈ میٹلز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جو نایاب معدنیات کی تلاش سے وابستہ کمپنی ہے۔ یہ سرمایہ کاری بل گیٹس کے زیر قیادت فنڈ بریک تھرو انرجی کے ذریعے کی گئی۔سال 2022میں اوپن اے آئی کے بانی سیم آلٹ مین بھی اس کمپنی کے سرمایہ کار بنے، جبکہ دیگر رپورٹس میں مارک زکربرگ اور اینڈریسن ہارووٹز کی جانب سے مالی معاونت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔کان کنی کے علاوہ گرین لینڈ کو کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کے تجربات کے لیے بھی ممکنہ مقام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق پیٹر تھیل کی حمایت یافتہ اسٹارٹ اپ ’’پراکسیس‘‘ نے گرین لینڈ میں کم ضابطہ کاری پر مبنی نئے شہر کے قیام کے لیے 52 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے زائد فنڈز جمع کیے ہیں۔
امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک ماضی میں کینٹر فٹزجیرالڈ کے سربراہ رہ چکے ہیں، جس سے منسلک فنڈ نے گرین لینڈ سے جڑے معدنی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق جیسے جیسے گرین لینڈ واشنگٹن کی اسٹریٹجک ترجیحات میں نمایاں ہو رہا ہے، اس خطے سے متعلق امریکی اقدامات اور نجی سرمایہ کاری کے مفادات کے درمیان تعلق پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
ٹرمپ کے اعلان سے قبل بیزوس اور زکربرگ کی گرین لینڈ میں بڑی سرمایہ کاری
مقالات ذات صلة
