تہران، 21 جنوری (یو این آئی) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کی دھمکی کے خلاف ایران نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خامنہ ای کے خلاف کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔ایران نے اس ضمن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا کہ اگر سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے خلاف کوئی بھی جارحانہ اقدام اٹھایا گیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ایرانی مسلح افواج کے ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ‘اگر ہمارے رہبر کی جانب کسی نے ہاتھ بڑھایا تو ہم وہ ہاتھ کاٹ دیں گے اور اِن کی دنیا کو آگ لگا دیں گے۔ایرانی مسلح افواج کے ترجمان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران آیت اللّٰہ خامنہ ای کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایران میں نئی قیادت کی بات کی تھی۔واضح رہے کہ ایران میں خراب معاشی حالات کے خلاف ہونے والے شدید احتجاج اور سیکیورٹی فورسز کی مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کے بعد سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای نے پہلی بار ہلاکتوں کی تعداد ‘کئی ہزار، بتاتے ہوئے اس کا الزام امریکہ پر عائد کیا ہے۔دوسری جانب عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن بحرِ ہند کی جانب بڑھ رہا ہے جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔اگرچہ امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق نہیں کی مگر جہاز کی سمت مشرقِ وسطیٰ کی جانب بتائی جا رہی ہے۔ امریکا ایرانی فورسز پر مزید حملے کرسکتا ہے۔
خامنہ ای کے خلاف کسی بھی اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا: ایران
مقالات ذات صلة
