ہومInternationalنظریں واشنگٹن پر مرکوز … غزہ کی "امن کونسل" کے افتتاح کا...

نظریں واشنگٹن پر مرکوز … غزہ کی “امن کونسل” کے افتتاح کا انتظار

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

غزہ 17 فروری (ایجنسی) توقع ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ جمعرات کو واشنگٹن میں غزہ کے لیے مخصوص “امن کونسل” کے افتتاحی اجلاس کی میزبانی کریں گے، جس کا مقصد غزہ کی پٹی میں تعمیرِ نو کی کوششوں کو بڑی تقویت دینا اور جنگ کے بعد کے سکیورٹی انتظامات سے متعلق منصوبوں کو آگے بڑھانا ہے۔توقع ہے کہ اس میں سربراہانِ مملکت اور وزرائے خارجہ کی سطح پر 20 سے زائد ممالک شرکت کریں گے۔ اسرائیل کی نمائندگی وزیر خارجہ جدعون ساعر کریں گے، کیونکہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکی اخبار “واشنگٹن پوسٹ” کے مطابق اجلاس کے منتظمین میں شامل حکام نے واضح کیا ہے کہ اس نشست میں صورت حال سے متعلق تازہ ترین معلومات فراہم کی جائیں گی، جس میں یہ اعلان بھی شامل ہے کہ رکن ممالک نے غزہ کی پٹی کی تعمیرِ نو کے لیے 5 ارب ڈالر سے زائد رقم فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔منتظمین نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ انہیں امید ہے کہ رکن ممالک استحکام قائم کرنے کے لیے مجوزہ بین الاقوامی فورس میں شامل ہونے کے لیے ہزاروں فوجی بھیجنے کا عہد کریں گے اور غزہ کی پٹی میں مقامی پولیس کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں تعاون کریں گے۔ حکام اس اقدام کو تعمیرِ نو کا عمل شروع ہوتے ہی غزہ کی پٹی کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔واضح رہے کہ اب تک چار ممالک نے علانیہ طور پر استحکام فورس میں اپنے اہل کار بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان میں انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ وہ 8,000 تک فوجی بھیج سکتا ہے، یونان نے 100 فوجی اور طبی عملہ بھیجنے کا عہد کیا ہے، جبکہ اٹلی اور قبرص نے بھی تعداد بتائے بغیر شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔دیگر ممالک نے بھی دل چسپی ظاہر کی ہے، لیکن وہ اپنی شراکت داری کے بارے میں حتمی فیصلے سے قبل غزہ کی پٹی کو اسلحہ سے پاک کرنے کے معاملے میں ٹھوس پیش رفت کے منتظر ہیں۔اس اقدام سے وابستہ حکام نے اشارہ دیا ہے کہ غیر مسلح کرنے کا عمل اگلے ماہ شروع ہو سکتا ہے، بشرطیکہ حماس تنظیم رضاکارانہ طور پر اپنے ہتھیار چھوڑنے پر راضی ہو جائے۔دوسری جانب، اسرائیلی سکیورٹی حکام نے غیر مسلح کرنے کے عمل اور بین الاقوامی فورس کے قیام کے امکان پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ایک اعلیٰ اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ “زمین پر ایسے کوئی آثار نہیں ہیں کہ حماس تنظیم اپنے ہتھیار حوالے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اور انڈونیشیا کے اعلان کے علاوہ ہم نے غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی افواج بھیجنے کے حوالے سے کوئی پختہ وعدے نہیں دیکھے”۔تاہم امن کونسل کے حکام نے پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ ان میں سے ایک نے کہا “ہم بنیادی اقدامات کی طرف بڑھ رہے ہیں … اور اگر غیر مسلح کرنے کا عمل رضاکارانہ طور پر آگے نہیں بڑھا، تو دیگر ذرائع پر غور کیا جائے گا”۔حماس تنظیم ماضی میں کئی بار اس بات پر زور دے چکی ہے کہ ہتھیاروں کا معاملہ ایک قومی مسئلہ ہے جس پر فلسطینیوں کے درمیان بحث کی جائے گی۔ تنظیم نے اس مسئلے پر بات چیت سے قبل اسرائیلی افواج کے پوری غزہ کی پٹی سے مکمل انخلاء کی شرط بھی رکھی ہے۔جبکہ امریکی صدر کئی بار اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ حماس تنظیم کے پاس ہتھیار چھوڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ ٹرمپ نے انکار کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version