غزہ آگ کے سائے میں… اسرائیلی حملوں نے فلسطینی پٹی کو لرزا دیا
غزہ 17 جنوری (ایجنسی)اسرائیلی فوج نے ہفتے کی صبح سویرے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر شدید فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔العربیہ کے نمائندے کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر کے مشرق میں واقع محلوں الشجاعیہ اور التفاح کو شدید نشانہ بنایا، جس کے ساتھ ہی الشجاعیہ کے مشرق میں تعینات فوجی گاڑیوں سے بھی بھاری فائرنگ کی گئی۔اسی طرح اسرائیلی جنگی طیاروں نے خان یونس شہر کے مشرق میں واقع قصبہ خزاعہ اور بنی سہيلا قصبے میں کئی اہداف پر حملے کیے۔ان کارروائیوں کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں شدید توپ خانہ بمباری بھی کی گئی، جبکہ اس دوران ان اسرائیلی فوجی ٹاورز سے بھی شدید فائرنگ کی گئی جو فلسطینی علاقوں اور اسرائیلی فوج کے پھیلاؤ کے علاقوں کے درمیان فاصل بننے والی نام نہاد Yellow Line کے قریب قائم ہیں۔دوسرا مرحلہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے بدھ کے روز غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ میں امریکی ایلچی سٹیو وِٹکوف نے دوسرے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ “غزہ کی پٹی میں فلسطینی ٹیکنو کریٹس کی ایک عبوری انتظامیہ قائم کرے گا” اور غیر مسلح کرنے اور دوبارہ تعمیرِ نو کے عمل کا آغاز کرے گا۔وِٹکوف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واشنگٹن “حماس تنظیم سے اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر پوری کرنے کی توقع رکھتا ہے”، انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ تنظیم سے آخری باقی ماندہ اسرائیلی قیدی کی میت کو بھی فوری طور پر واپس کرنے کا منتظر ہے “ورنہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے”۔اسی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز اپنے پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر غزہ کے لیے مخصوص “کونسل آف پیس” کی تشکیل کا اعلان کیا۔ اس کا ذکر فلسطینی غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کے منصوبے میں کیا گیا تھا۔
اسرائیلی فوجیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک 14 سالہ فلسطینی بچے کو فائرنگ کر کے جمعہ کے روز قتل کر دیا۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیلی فوجیوں پر پتھر پھینک رہا تھا۔ اس واقعے کے بارے میں فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔14 سالہ فلسطینی بچے کی ہلاکت کا واقعہ المغاییر نامی گاؤں میں پیش آیا۔فلسطینی اتھارٹی کی خبر رساں ایجنسی ‘وفا، کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے اس بچے کو اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کیا جب گاؤں میں اسرائیلی فوجیوں کی چڑھائی کے خلاف فلسطینی احتجاج کر رہے تھے۔فوجی بیان میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ علاقے سے رپورٹس ملی تھیں کہ فلسطینی اسرائیلی فوج پر پتھر پھینک رہے ہیں اور سڑک کو جلائے گئے ٹائروں سے بلاک کر رہے ہیں۔ اس لیے مزید فوجی بھیجے گئے جنہوں نے فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور اسی دوران اس فلسطینی بچے کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے فائرنگ سے نشانہ بنایا گیا۔مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں تقریبا آئے روز کا معمول ہیں۔ جس میں شہریوں کی ہلاکت بھی اب مغربی کنارے کے لوگوں کے لیے نئی بات نہیں رہی ہے۔7 اکتوبر 2023 سے لے کر اب تک مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے حملے اور فائرنگ کے واقعات فلسطینی شہریوں کے خلاف تواتر سے ہو رہے ہیں جن کے نتیجے میں اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔
