واشنگٹن،09مارچ(ہ س)۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی مسلسل ناکہ بندی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔پیر کے روز خام تیل کی قیمت میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔گرینچ کے وقت کے مطابق تقریباً2 بج کر30 منٹ پر امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 30اعشاریہ 4فیصد اضافے کے بعد 118اعشاریہ21 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔اسی طرح برینٹ نارتھ سی خام تیل کی قیمت بھی 27اعشاریہ54 فیصد اضافے کے ساتھ 118اعشاریہ22 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ تیل کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے پر جہاں عالمی رہنماؤں میں تشویش پائی جا رہی ہے، وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ:مختصر مدت کے لیے تیل کی بلند قیمتیں ہوئی ہیں، جو ایران کے جوہری خطرے کے خاتمے کے بعد جلد کم ہو جائیں گی، امریکہ اور دنیا کے امن و سلامتی کے مقابلے میں ادا کرنے کے لیے بہت معمولی قیمت ہیں۔یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب آبنائے ہرمز کی عملی طور پر بندش کے باعث کئی ممالک جن میں عراق بھی شامل ہے، ان کو تیل کی پیداوار کم کرنا پڑی۔آبنائے ہرمز خلیجی خطے سے درمیانے اور بھاری ترش خام تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، مگر جنگ اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جہازوں کو دھمکیوں کے باعث اس راستے سے تیل کی ترسیل بڑی حد تک متاثر ہو چکی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر دیا، جس کے بعد اب تک آبنائے ہرمز یا اس کے قریب تقریباً 10 جہازوں پر حملے ہو چکے ہیں۔واضح رہے کہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل اسی آبنائے سے ہوتی ہے۔ تاہم تجزیاتی کمپنی کپلر کے مطابق ایک ہفتے کے دوران اس راستے سے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت میں 90 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔کمپنی کے مطابق گزشتہ پیر سے اب تک صرف 9 تجارتی جہاز، آئل ٹینکرز اور کنٹینر بردار جہاز اس آبنائے سے گزرے ہیں، جبکہ بعض جہازوں نے سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنی لوکیشن بھی عارضی طور پر چھپا لی۔
تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ، بیرل 115 ڈالر سے تجاوز، ٹرمپ نے کہا ’یہ تو کچھ بھی نہیں‘
مقالات ذات صلة
