امریکی طیارہ گرنے سے مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے: ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن، 4 اپریل (یواین آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی جنگی طیارہ گرائے جانے کا واقعہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات پر اثر انداز نہیں ہوگا۔”این بی سی نیوز” کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کی رات کہا کہ جنگی صورتحال میں ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں اور یہ مذاکراتی عمل کو متاثر نہیں کریں گے۔برطانوی اخبار “دی انڈیپینڈنٹ” کے مطابق ایک مختصر انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کے لیے تیار نہیں کہ اگر لاپتہ امریکی پائلٹ زخمی حالت میں پایا گیا تو امریکہ کیا ردعمل دے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایرانی افواج اس پائلٹ تک پہنچ جاتی ہیں تو ممکنہ کارروائی کے حوالے سے فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔ایرانی ویب سائٹ “نور نیوز” کے مطابق ایک ایرانی عہدے دار نے بتایا کہ گرنے والے امریکی طیارے کے لاپتہ عملے کی تلاش جاری ہے۔ایران نے جمعے کو دعویٰ کیا کہ اس نے ملک کے جنوب مغرب میں ایک امریکی جنگی طیارہ مار گرایا، جبکہ امریکی افواج نے ریسکیو آپریشن کے ذریعے ایک اہلکار کو بحفاظت نکال لیا، تاہم دوسرا تاحال لاپتہ ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ مار گرایا جانے والا طیارہ ایف-35 تھا اور اسے جدید دفاعی نظام کے ذریعے ایرانی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ یہ دوسرا ایف-35 طیارہ ہے جسے مار گرایا گیا ہے، تاہم طیارے کی مکمل تباہی کے باعث پائلٹ کے انجام کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں۔تاہم عسکری ماہرین نے سوشل میڈیا پر جاری تصاویر کے حوالے سے کہا ہے کہ ملبہ بظاہر ایف-15 طیارے کا معلوم ہوتا ہے۔دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی “تسنیم” نے دعویٰ کیا کہ ایک امریکی پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ مقامی ٹی وی چینلز کے مطابق ایک پائلٹ نے جنوب مغربی ایران میں طیارے سے چھلانگ لگائی تھی۔”فارس” ایجنسی کے مطابق ایرانی افواج امریکی پائلٹ کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ سرکاری میڈیا نے طیارے کے ملبے کی تصاویر بھی نشر کی ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکہ اپنی فضائیہ کے کم از کم سات جنگی طیارے کھو چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے مار گرائے گئے امریکی طیاروں میں ایف 35، ایف 15 ایگل اور ای تھری جاسوس طیارہ شامل ہیں۔حالیہ واقعے میں ایران کی حدود کے اندر ایک امریکی جنگی طیارہ تباہ کیا گیا، جبکہ ایرانی حکام نے لاپتہ امریکی پائلٹ کی تلاش کے لیے مالی انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔ابتدائی طور پر ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے جدید ایف 35 طیارہ مار گرایا ہے، تاہم بعد میں سامنے آنے والی تصاویر اور ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ تباہ ہونے والا طیارہ ایف 15 اسٹرائیک ایگل تھا، جو طویل فاصلے تک بمباری کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس میں دو افراد پر مشتمل عملہ سوار ہوتا ہے۔امریکی حکام کے مطابق طیارہ گرنے سے قبل دونوں اہلکاروں نے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگا دی تھی۔خصوصی امریکی فورسز نے ایک اہلکار کو بحفاظت بازیاب کرا لیا ہے جبکہ دوسرا تاحال لاپتہ ہے اور اس کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
