National

کانگریس کے انتخابی منشور میں ذات پر مبنی مردم شماری کو اولین ترجیح، تمام طبقات کا رکھا جائے گا خیال

52views

عام انتخابات کے لیے جاری مختلف سیاسی پارٹیوں کی صف بندی کے درمیان کانگریس پارٹی نے غریبوں و پسماندہ لوگوں کی راحت رسانی کی اپنی پالیسی کو فوقیت دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایسی صورت میں جب حکمراں طبقے کے ذریعے اقتدار کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے، کانگریس نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے انتخابی منشور میں ذات پر مبنی مردم شماری کو اولین ترجیح دے گی۔ واضح رہے کہ کانگریس کے  اعلیٰ لیڈران کئی مواقع پر ذات پر مبنی مردم شماری کی وکالت و مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

کانگریس نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے اپنا منشور تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس میں تقریباً 50 بڑے موضوعات کے تحت سماج کے ہر طبقے سے متعلق مسائل کو شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس میں ذات پر مبنی مردم شماری کو اولین ترجیح کے طور پر یپش کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں دہلی کانگریس کے صدر ارویندر سنگھ لولی نے میڈیا کو اطلاع دی ہے کہ کانگریس کے انتخابی منشور میں ہر طبقے سے جڑے موضوعات کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ منشور کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی کی سوچ اور ان کے کاموں مطابق ہوگا۔

انتخابی منشور میں تمام طبقات سے متعلق مسائل کو شامل کرنے سے پارلیمانی انتخابات کا منظر نامہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ کانگریس کے انتخابی منشور میں دیگر اہم موضوعات میں خواتین، غریبوں، کسانوں، جھوپڑوں میں رہنے والوں اور کھلاڑیوں سمیت ہر طبقے کے مسائل کو شامل کیا جائے گا۔ ’نیائے سنکلپ پتر‘ کے نام سے جاری ہونے والے اس انتخابی منشور میں راہل گاندھی کی سوچ کو پیش کیا جائے گا۔

اس ضمن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اروندر سنگھ لولی نے کہا کہ کانگریس عوام کے مسائل اور ان کے حقوق کے لیے مسلسل کام کرتی ہے۔ کانگریس کارکنان دہلی کے لوگوں کے درمیان جائیں گے اور ان سے متعلق مسائل کو انتخابی منشور میں شامل کریں گے۔ لولی نے کہا کہ جہاں بھی بی جے پی کی حکومت ہے وہ صرف بڑے لوگوں اور سرمایہ داروں سے ملتی ہے اور انہیں فائدہ پہنچانے کے لیے پالیسیاں بناتی ہے۔ جب کہ ہمارے لیڈر راہل گاندھی سڑکوں پر رہنے والوں، یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ وغیرہ سے براہ راست بات کرتے ہیں۔ وہ نوجوانوں، خواتین، مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ اروندر سنگھ لولی نے مزید کہا کہ عوام کے مسائل کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے دہلی والوں کے لیے نیا سنکلپ پاترا تیار کیا جائے گا۔

اس موقع پر دہلی کانگریس جنرل سکریٹری دیپک بابریا نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ لوک سبھا انتخابات اور اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں ایک منشور کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس میں سماج کے ہر طبقے سے متعلق مسائل کو جگہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک جانتا ہے کہ بی جے پی نے سب کی خود مختاری چھیننے کی کوشش کی ہے، کانگریس کے منشور میں عوامی ترجیحات کو فوقیت دی جائے گی۔ دیپک بابریا نے کہا کہ شیلا دکشت حکومت نے 15 سالوں میں دہلی کے بنیادی ڈھانچے کو عالمی معیار کا بنایا، لیکن بی جے پی حکومت نے پچھلے 10 سالوں میں اسے تباہ کر دیا۔ بی جے پی نے غریبوں کو مکانات، بے روزگاروں کو نوکریاں اور تعلیم و صحت کا وعدہ کیا تھا لیکن ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔

دہلی کانگریس کی انتخابی منشور کمیٹی کے چیئرمین چودھری انل کمار نے کہا کہ ہم اپنے لیڈر راہل گاندھی کی بھارت جوڑو نیائے یاترا کے لفظ ’نیائے‘ سے جو توانائی حاصل کرتے ہیں اسی کے ساتھ ہم دہلی کے لوگوں کے درمیان جائیں گے اور کانگریس تینوں لوک سبھا سیٹ پر کامیاب ہوگی نیز ‘انڈیا‘ الائنس پوری سات سیٹوں کا جیت حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 سالوں میں دہلی کے لوگ بی جے پی کے راج سے پریشان ہیں۔ مزدور، ٹیچر، سرکاری ملازمین، صنعتی یونٹس، نجی اداروں اور نجی شعبوں میں کام کرنے والے تمام لوگ آج بحران میں زندگی گزار رہے ہیں۔ چودھری انل کمار نے اس موقع پر انتخابی منشور میں شامل موضوعات کو بھی تفصیل کے ساتھ پیش کیا۔

اس پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دہلی حکومت کے سابق وزیر ہارون یوسف نے کہا کہ کانگریس کا انتخابی منشور دہلی کے لوگوں کے لیے اہم ہے کیونکہ کانگریس نے معلومات کا حق، آر ٹی آئی ایکٹ، فوڈ سیکورٹی ایکٹ بنا کر لوگوں کے لیے کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے دہلی کے ہر علاقے کی ہمہ جہت ترقی کی ہے اور دہلی کے لوگوں کی پریشانیوں کو دور کیا ہے۔ ہارون یوسف نے کہا کہ ملک کا ہر شہری بالخصوص دہلی کے لوگ آج بی جے پی سے سخت پریشان ہیں۔ کانگریس دہلی کے لوگوں کے مسائل کو خوب اچھی طرح سمجھتی ہے اور وہی انہیں حل کر سکتی ہے۔

Follow us on Google News