ایران جنگ میں پھنسے امریکہ کے پاس 2 ہفتوں بعد بھی آپشنز موجود نہیں: بین الاقوامی میڈیا
دبئی، 14 مارچ (یو این آئی) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے 2 ہفتے بعد جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں واشنگٹن صورت حال پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے راستے محدود ہو گئے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی فضائی حملوں میں ایرانی قیادت کو بڑا نقصان پہنچا تاہم ایرانی حکومت ختم نہیں ہوئی اور فوری طور پر نئی قیادت قائم کر دی گئی۔ماہرین کے مطابق ایران کی ’موزیک دفاعی حکمتِ عملی‘ نے فوجی نظام کو قیادت کے نقصان کے باوجود فعال رکھا۔ایران نے جوابی کارروائی میں خلیجی ممالک، بحری جہازوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھا کر عالمی تیل کی سپلائی کو خطرے میں ڈال دیا، دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے جس کے باعث عالمی سطح پر تیل اور ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔رپورٹس کے مطابق متعدد ممالک نے اپنے اسٹریٹیجک تیل کے ذخائر جاری کیے مگر مہنگائی اور سپلائی بحران برقرار ہے، بنگلہ دیش میں ایندھن راشننگ شروع ہو گئی جبکہ پاکستان سمیت کئی ممالک میں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی حکمت عملی 3 نکات پر مبنی ہے:
حکومت کا تحفظ، جوابی حملوں کی صلاحیت برقرار رکھنا اور جنگ کو طول دینا تاکہ مذاکرات اپنی شرائط پر کیے جا سکیں۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران سے ’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘ کا مطالبہ کیا ہے مگر امریکی حکمت عملی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ ناقدین کا اس صورتِ حال سے متعلق کہنا ہے کہ امریکا فوجی برتری کے باوجود ایران کی سیاسی اور سماجی حقیقت کو درست انداز میں سمجھنے میں ناکام رہا۔جنگ کے اثرات امریکی سیاست پر بھی پڑ رہے ہیں، بڑھتی مہنگائی اور تیل کی قیمتوں کے باعث آئندہ کانگریس انتخابات میں حکمراں جماعت کو سیاسی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ممکنہ راستوں میں محدود جنگ بندی، زمینی فوج بھیجنا یا ایران کے اندرونی گروہوں کی حمایت شامل ہوسکتی ہے تاہم ہر آپشن مزید عدم استحکام کا خطرہ رکھتا ہے۔رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکا اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا فوری حل نظر نہیں آتا اور امکان ہے کہ امریکہ ’فتح‘ کی تعریف بدل کر محدود فوجی کامیابی کو ہی سیاسی کامیابی قرار دے۔
