نئی دہلی، 30 مارچ (یواین آئی ) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ملک کے اداروں میں بڑے عہدوں پر بہوجن سماج کی شرکت کم ہے اور ان کی مناسب شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے ریزرویشن سے آگے بڑھ کر پالیسی سازی میں اصلاحات کی جانی چاہئیں۔مسٹر گاندھی نے پیر کو سوشل میڈیا ‘ایکس، پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جب بھی کسی ادارے یا تنظیم کے لوگ ان سے ملنے آتے ہیں تو سب کی شکایت یہی ہوتی ہے کہ ان کے ادارے میں اعلیٰ عہدوں پر کمزور طبقات کے لوگوں کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا، “حال ہی میں ‘جن سنسد،میں رورل بینک (دیہی بینک) کے ایس سی-ایس ٹی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کے دوران بھی یہ بات سامنے آئی کہ ترقی (پرموشن) میں روسٹر قوانین ہونے کے باوجود دلت اور قبائلی ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ کبھی کارکردگی تو کبھی میرٹ کے نام پر ان کی ترقی روک دی جاتی ہے، جبکہ آواز اٹھانے پر دور دراز علاقوں میں تبادلے جیسی کارروائی بھی کی جاتی ہے۔”راہل گاندھی نے مزید کہا کہ ریزرویشن کی وجہ سے ان برادریوں کو ابتدائی سطح پر نوکریاں تو مل جاتی ہیں، لیکن پالیسی ساز امتیازی سلوک کی وجہ سے اعلیٰ عہدوں تک پہنچنا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ناانصافی کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی تاکہ ہر طبقے کو اداروں میں یکساں حصہ مل سکے۔
