ہومNationalبی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف توہین آمیز تبصرہ...

بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کے معاملے میں ملکارجن کھڑگے کو نوٹس

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

2023 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات کے دوران تضحیک آمیز بیانات دیے تھے

نئی دہلی، 30 جنوری (ہ س)۔ دہلی کی راؤز ایونیو سیشن کورٹ نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف مبینہ توہین آمیز تبصرہ کے معاملے میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کو نوٹس جاری کیا ہے۔ ٹرائل کورٹ نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے سے انکار کر دیا تھا، اور خصوصی جج جتیندر سنگھ نے اس کو چیلنج کرنے والی درخواست پر کیس کی اگلی سماعت 27 فروری کو مقرر کی ہے۔ دراصل 13 دسمبر 2024 کو تیس ہزاری مجسٹریٹ کورٹ نے کانگریس صدر کھڑگے کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ملکارجن کھڑگے راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ ہیں، اس لیے اب ان کے خلاف راؤز ایونیو میں واقع ایم پی-ایم ایل اے کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست آر ایس ایس کے رکن رویندر گپتا نے دائر کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملکارجن کھڑگے نے 27 اپریل 2023 کو کرناٹک اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی اور آر ایس ایس کے بارے میں تضحیک آمیز بیانات دیے تھے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سنگین الزامات لگائے۔ بعد میں انہوں نے وزیر اعظم کے نہیں بلکہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے خلاف بیان دیا۔ وکیل گگن گاندھی نے عرضی گزار کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کے رکن کی حیثیت سے درخواست گزار کو ملکارجن کھڑگے کے بیانات سے دکھ پہنچا ہے۔ عدالت نے تھانہ سبزی منڈی کو اس معاملے میں کارروائی کی رپورٹ درج کرنے کی ہدایت کی تھی۔ سبزی منڈی پولیس اسٹیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بیانات کرناٹک میں دیئے گئے ہیں اور یہ سبزی منڈی پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے ہیں۔ مجسٹریٹ کورٹ نے کہا کہ ضابطہ فوجداری کے سیکشن 156(3) کے تحت، عدالت کا استحقاق یہ طے کرنا نہیں ہے کہ جرم قابلِ ادراک ہے یا نہیں، بلکہ یہ تعین کرنا ہے کہ آیا پولیس کی تفتیش ضروری ہے۔ اس لیے ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے درخواست گزار کو شکایت کے حق میں ثبوت پیش کرنے کی ہدایت کی۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version