امپھال، 19 اپریل (یو این آئی) منی پور میں اتوار کو پانچ روزہ مکمل بند کی وجہ سے معمولات زندگی پوری طرح درہم برہم رہے۔واضح رہے کہ بشنو پور ضلع کے ترونگلا اوبی میں 7 اپریل کو ہوئی فائرنگ میں پانچ سالہ لڑکے اور پانچ سالہ لڑکی کی موت ہو گئی تھی۔ اس معاملے میں حکومت کی جانب سے مناسب کارروائی نہ ہونے کے خلاف یہ بند 25 اپریل تک نافذ رہے گا۔ راکٹ حملے میں شدید زخمی ہوئی ان بچوں کی ماں کو اسپتال سے چھٹی مل گئی ہے، جبکہ ان کے والد بھی گھر لوٹ آئے ہیں۔ واضح رہے کہ والد بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے جوان ہیں۔اس معاملے میں سکیورٹی فورسز نے اب تک پانچ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا ہے اور تحقیقات قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے سپرد کر دی گئی ہیں۔ آج اری پوک میں بزرگ شہریوں نے دھرنا دیا اور بچوں کے قتل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ منی پور حکومت نے امپھال ویسٹ، امپھال ایسٹ، تھوبل، کاکچنگ اور بشنو پور اضلاع میں کچھ نرمی کے ساتھ کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ کل ہی حکومت نے انٹرنیٹ سے پابندی ہٹائی تھی۔بچوں کے قتل کے خلاف بنائی گئی ‘جوائنٹ ایکشن کمیٹی، (جے اے سی) کے مطابق، حکومت کے ساتھ کئی دور کی بات چیت ہوئی، لیکن اب تک کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا ہے۔ کرفیو کے باوجود ہزاروں لوگ روزانہ سڑکوں پر اتر کر نعرے بازی کر رہے ہیں۔ مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی گئی فائرنگ میں اب تک تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 80 سے زائد افراد، جن میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں، شدید زخمی ہوئے ہیں۔ریاست کی خاتون تنظیموں نے انصاف کے مطالبے کے لیے 25 اپریل تک تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ کل آدھی رات کو امپھال ویسٹ کے ساگول بند میں احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں خواتین زخمی ہوئیں۔ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے باعث علاقے کے ایک چلڈرن اسپتال سے زیر علاج بچوں کو باہر نکالنا پڑا۔دھرنے میں شامل بزرگ شہریوں نے الزام لگایا کہ سکیورٹی فورسز نے سی سی ٹی وی، گاڑیوں اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک بزرگ نے کہا کہ فائرنگ ہونے پر خواتین، بچے اور بزرگ بھاگنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے، اس لیے سکیورٹی فورسز کو صرف مظاہرین سے نمٹنا چاہیے اور بزرگوں کو پریشان نہیں کرنا چاہیے۔
