چاروں ایوانوں کے ممبر بننے والے بہار کے دوسرے وزیر اعلیٰ
جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ (10 اپریل): بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے راجیہ سبھا کے ممبر کی حیثیت سے حلف اٹھا کر اپنی پارلیمانی زندگی کی ایک نئی اننگز کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے اور ان کے ایوانِ بالا میں جانے کے ساتھ ہی اب ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے اپنے چیمبر میں منعقدہ ایک مختصر تقریب کے دوران انہیں رکنیت کا حلف دلایا جہاں نتیش کمار نے مرکزی وزراء جے پی نڈا، نرملا سیتارامن اور ارجن رام میگھوال کی موجودگی میں ہندی زبان میں حلف لیا جبکہ اس موقع پر سنجے کمار جھا، جے رام رمیش اور راجیو پرتاپ روڈی جیسے سینئر رہنما بھی موجود تھے۔ راجیہ سبھا کی ذمہ داری سنبھالنے کے ساتھ ہی بہار میں ان کے طویل اقتدار کا دور ختم ہو گیا ہے اور انہوں نے دہلی پہنچ کر صحافیوں سے گفتگو میں واضح کر دیا ہے کہ اب وہ مرکزی سیاست میں متحرک رہیں گے۔نتیش کمار کی سیاسی زندگی کا سفر 1985 میں بہار اسمبلی سے شروع ہوا تھا ۔
جس کے بعد وہ 6 بار لوک سبھا کے ممبر رہے اور وزیر اعلیٰ بننے کے بعد 4 بار قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوئے اور اب راجیہ سبھا پہنچنے کے بعد انہیں ملک کے چاروں ایوانوں کا ممبر رہنے کا وہ تاریخی اعزاز حاصل ہو گیا ہے جو اس سے قبل صرف لالو پرساد یادو کے پاس تھا۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ 12 اپریل کو پٹنہ واپس لوٹیں گے جس کے بعد 13 اپریل کو کابینہ کا آخری اجلاس متوقع ہے اور 14 اپریل کو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکتے ہیں جبکہ امکان ہے کہ 15 اپریل تک بہار کے نئے وزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اس تبدیلی کو بہار کی سیاست میں ایک بڑے عہد کا خاتمہ اور نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے تاہم وزیر وجے کمار چودھری کا کہنا ہے کہ آنے والی نئی این ڈی اے حکومت بھی ‘نتیش ماڈل ‘ پر ہی عمل کرے گی جس نے گزشتہ بیس سالوں میں ریاست کی تقدیر بدلی ہے۔
