غزہ، 10 جون (یو این آئی) الجزیرہ کی نئی تحقیقاتی دستاویزی فلم ’باڈیز آف ایویڈینس: اسرائیل ڈارکسٹ ویپن‘ میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ جنسی تشدد، ریپ اور بدسلوکی کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔فلم میں متعدد سابق فلسطینی قیدیوں کی گواہیاں شامل ہیں جنہوں نے اسرائیلی حراستی مراکز میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات بیان کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق قیدی محمد زکی البکری نے بتایا ہے کہ اپریل 2024ء میں دورانِ حراست مجھے اور دیگر قیدیوں کو برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اسرائیل کی قید میں فلسطینیوں پر دن رات بدترین تشدد ہوتا ہے، ڈائریکٹر الشفا اسپتالان کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر اور ہتھکڑیاں لگا کر رکھا گیا جبکہ ان کے ساتھ جنسی تشدد بھی کیا گیا، بعض مواقع پر کتوں کو بھی قیدیوں کو خوفزدہ کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ دستاویزی فلم میں ایک اور فلسطینی قیدی جنہیں سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر جاب کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے، انہوں نے بھی اسی نوعیت کے انکشافات کیے ہیں۔انہوں نے بتایا ہے کہ دورانِ حراست جسمانی اور جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اس عمل کی ویڈیوز بھی بنائی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی ایک تحقیق جو مارچ 2025ء میں شائع ہوئی، اس میں اکتوبر 2023ء کے بعد فلسطینیوں کے خلاف جنسی اور صنفی بنیادوں پر تشدد کے شواہد کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی فلسطینی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی سے متعلق رپورٹس جاری کی ہیں۔اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے مقبوضہ فلسطینی علاقے فرانسیکا البانیز کے مطابق جنسی تشدد کا مقصد صرف جسمانی اذیت دینا نہیں بلکہ متاثرہ افراد کی ذہنی اور نفسیاتی تباہی بھی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے اور متعدد مواقع پر اپنے فوجیوں کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کر چکا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور بین الاقوامی قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان الزامات کی آزاد اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔انسانی حقوق کی تنظیمیں ان انکشافات کی بین الاقوامی سطح پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
