ہومJharkhandجھارکھنڈ اسمبلی میں او بی سی کو 27 فیصد ریزرویشن دلانے کا مطالبہ

جھارکھنڈ اسمبلی میں او بی سی کو 27 فیصد ریزرویشن دلانے کا مطالبہ

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

پردیپ یادو نے ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے پر بھی تشویش ظاہر کی

جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 16 مارچ:۔ جھارکھنڈ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران رکن اسمبلی پردیپ یادو نے ووٹر لسٹ، او بی سی ریزرویشن اور دیگر اہم مسائل ایوان میں اٹھائے۔ انہوں نے ملک میں ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ریاستوں میں لاکھوں افراد کے نام فہرست سے کاٹے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بہار میں تقریباً 65 لاکھ اور دیگر ریاستوں میں لگ بھگ ایک کروڑ افراد کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جا چکے ہیں۔
جھارکھنڈ میں بھی بڑے پیمانے پر نام حذف ہونے کا دعویٰ
پردیپ یادو نے کہا کہ جھارکھنڈ میں بھی ’’پیرینٹل میپنگ‘‘ کے نام پر اب تک تقریباً 12 لاکھ افراد کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا چکے ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ تعداد بڑھ کر 20 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس عمل سے خاص طور پر آدیواسی، دلت، پسماندہ طبقات اور مسلمان زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
او بی سی ریزرویشن کا معاملہ
رکن اسمبلی نے او بی سی ریزرویشن کے مسئلے کو بھی اٹھایا۔ انہوں نے دمکا میں چوکی داروں کی بھرتی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں او بی سی آبادی 50 فیصد سے زیادہ ہونے کے باوجود اس طبقے کو ایک بھی عہدہ نہیں ملا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ او بی سی کو 27 فیصد ریزرویشن دلانے کے لیے مرکزی حکومت کے خلاف پہل کی جائے۔
ذات پر مبنی مردم شماری اور مقامی روزگار
پردیپ یادو نے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تمام طبقات کو ان کا حق مل سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی نیت اچھی ہو سکتی ہے لیکن سرکاری پیچیدگیوں کے باعث کئی فیصلے رکے ہوئے ہیں۔ مقامی نوجوانوں کے لیے 75 فیصد روزگار کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے تو حکومت کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔
آؤٹ سورسنگ اور پنشن اسکیم پر تبصرہ
انہوں نے آؤٹ سورسنگ نظام میں مقامی نوجوانوں کے استحصال کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ کئی مقامات پر ملازمت کے نام پر بھاری رقم وصول کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ’’سروجَن پنشن یوجنا‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بی پی ایل شرط ختم ہونے کے بعد فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد تقریباً 14 لاکھ سے بڑھ کر 64 لاکھ ہو گئی ہے۔
دیگر انتظامی مسائل اور مطالبات
پردیپ یادو نے کہا کہ کئی انچل افسران سرکاری ہدایات کے باوجود بے زمین اور دلت افراد کو رہائشی سرٹیفکیٹ جاری نہیں کر رہے ہیں، اس لیے حکومت کو اس معاملے میں سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے اقلیتی اداروں کی منظوری سے متعلق معاملات جلد حل کرنے اور 1980 سے زیر التوا اراضی سروے مکمل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق زمین کا سروے مکمل ہونے سے زمینی تنازعات کم ہوں گے اور عوام کو راحت ملے گی۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.