صنعا،19 اپریل ( یو ای ن آئی) یمن کے حوثیوں نے آبنائے باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ صنعا میں حوثی انتظامیہ کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈالنا بند کریں، انہوں نے کہا کہ باب المندب دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جو خلیج عدن کو بحیرہ احمر سے ملاتی ہے۔یاد رہے کہ خلیجی ممالک سے یورپ اور ایشیا کو جانے والے تیل کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے عالمی خام تیل کی سپلائی کا تقریباً 5 فیصد، جو کہ روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل بنتا ہے، اسی شاہراہ سے گزرتا ہے۔اگر باب المندب کو بند کر دیا گیا تو عالمی تجارت کا 10 فیصد حصہ رک جائے گا، کیونکہ یہ بحیرہ احمر کا داخلی راستہ ہے اور یہاں سے سویز کے ذریعے یورپ اور ایشیا کے درمیان تیز رفتار اور کم لاگت تجارت ممکن ہوتی ہے۔دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایرانی کنٹرول میں ہے اور اس کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ آبنائے اس وقت تک کنٹرول میں رہے گی جب تک امریکا ایران کے لیے بحری جہازوں کی آمد و رفت بحال نہیں کر دیتا۔
یمن کے حوثیوں نے آبنائے باب المندب بند کرنے کی دھمکی دیدی
مقالات ذات صلة
