ملک کی صفِ اول کی ترقی یافتہ ریاست بنائیں گے: سمراٹ چودھری
جدید بھارت نیوز سروس
ہاوڑہ/کولکاتہ: مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 2026 کا بگل بجتے ہی سیاسی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی آ گئی ہے۔ ریاست کے کونے کونے میں انتخابی مہم اپنے جوبن پر ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنے ‘اسٹار پرچارکوں’ کی پوری فوج میدان میں اتار دی ہے۔ اسی کڑی میں پڑوسی ریاست بہار کے قدآور رہنما اور نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے آج ہاوڑہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف اسمبلی حلقوں کے بی جے پی امیدواروں کی پروقار تقریبِ نامزدگی میں شرکت کر کے انتخابی مہم میں نئی روح پھونک دی۔ہاوڑہ میں ایک عظیم الشان عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سمراٹ چودھری نے اپنے مخصوص انداز میں کارکنوں اور عوام کے اندر جوش و خروش پیدا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مغربی بنگال کا یہ انتخاب محض کسی ایک پارٹی کو ہٹا کر دوسری پارٹی کو اقتدار میں لانے کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ بنگال کی اپنی خودداری، قدیم وقار اور اس کے وجود کی حفاظت کی ایک عظیم جدوجہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کی سرزمین ہمیشہ سے شعور اور انقلاب کی سرزمین رہی ہے، لیکن وقت کی گرد نے اس کی چمک کو دھندلا دیا ہے، جسے اب بی جے پی اپنے ترقیاتی ایجنڈے کے ذریعے دوبارہ بحال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔سمراٹ چودھری نے عوام کو یقین دلایا کہ اگر ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو مغربی بنگال کی عظمتِ رفتہ کو واپس لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا بنیادی مقصد ریاست کی منفرد ثقافتی پہچان کو برقرار رکھتے ہوئے یہاں کے مقامی باشندوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے روزگار کے مواقع، صنعتی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے کا وعدہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگال کو ایک ایسی ریاست کے طور پر تیار کیا جائے گا جو ترقی کے معاملے میں پورے ملک کی قیادت کر سکے اور ہندوستان کی معیشت میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔وزیر اعظم نریندر مودی کے ‘وِکست بھارت ‘ (ترقی یافتہ ہندوستان) کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح مرکزی حکومت نے ملک کو عالمی سطح پر ایک نئی پہچان دی ہے اور جس طرح بہار میں ترقی کے نئے باب لکھے جا رہے ہیں، اسی طرح بی جے پی کا خواب ہے کہ مغربی بنگال بھی ایک ‘ترقی یافتہ ریاست ‘ کے طور پر ابھرے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ‘سونار بنگلہ ‘ کا دیرینہ خواب صرف بی جے پی ہی شرمندۂ تعبیر کر سکتی ہے، کیونکہ پارٹی کی پالیسی ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس ‘ پر مبنی ہے۔اپنے سیاسی خطاب کے بعد، سمراٹ چودھری نے روحانی سکون کے لیے کولکاتہ کے تاریخی اور مقدس کالی گھاٹ مندر کا رخ کیا۔ وہاں انہوں نے عقیدت و احترام کے ساتھ ماں کالی کی پوجا ارچنا کی اور خصوصی آرتی میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے ملک کی سالمیت اور خاص طور پر مغربی بنگال کے عوام کی سکھ، شانتی، باہمی بھائی چارے اور خوشحالی کے لیے دعا مانگی۔ ان کے اس دورے نے جہاں ایک طرف بی جے پی کارکنوں میں سیاسی توانائی بھری ہے، وہیں دوسری طرف عوام کے درمیان ایک مثبت پیغام بھی پہنچایا ہے۔
