لاء اینڈ آرڈر پر نتیش کمار اور رابڑی دیوی کے درمیان شدید تلخ کلامی
جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ، 9 فروری: بہار اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا پانچواں دن سیاسی گرما گرمی اور ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا۔ قانون ساز کونسل میں امن و امان (لاء اینڈ آرڈر) کے مسئلے پر وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور اپوزیشن لیڈر رابڑی دیوی کے درمیان تیکھی بحث ہوئی، جس کے نتیجے میں ایوان کی کارروائی شدید متاثر ہوئی۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی آر جے ڈی کے رکن سنیل کمار سنگھ نے دربھنگہ میں 6 سالہ بچی کے ساتھ پیش آنے والے عصمت دری اور قتل کے لرزہ خیز واقعے کو اٹھایا۔ اس معاملے پر اپوزیشن اراکین نے حکومت کو گھیرنا شروع کر دیا۔ سابق وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر رابڑی دیوی نے مورسے میں اٹھ کر حکومت پر سخت تنقید کی اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا۔ رابڑی دیوی نے جذباتی انداز میں کہا، “بہار میں اب کوئی ایسا ضلع نہیں بچا ہے جہاں ہماری بیٹیاں محفوظ ہوں۔ حکومت جرائم پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔”اپوزیشن کے شور شرابے اور “نتیش کمار ہائے ہائے” کے نعروں کے درمیان وزیر اعلیٰ نتیش کمار اپنی نشست سے اٹھے اور آر جے ڈی دور کا حوالہ دیتے ہوئے جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “آپ لوگ آج بول رہے ہیں، کیا اپنے دورِ اقتدار میں آپ نے کچھ کام کیا تھا؟ کیا اس وقت بچیوں کو اسکول بھیجا جاتا تھا؟” وزیر اعلیٰ کے اس تبصرے نے آگ پر تیل کا کام کیا اور آر جے ڈی کے اراکین اسمبلی ویل (Well) میں آ کر نعرے بازی کرنے لگے۔
پٹنہ، کھگڑیا، آرہ اور دربھنگہ میں حالیہ دنوں میں پیش آنے والے عصمت دری کے واقعات نے اپوزیشن کو مشتعل کر دیا۔ ہنگامہ آرائی اتنی بڑھی کہ وقفہ سوالات کی کارروائی نہ چل سکی، جس کے باعث چیئرمین نے ایوان کی کارروائی دوپہر ڈھائی بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔ ایوان کے باہر بھی اپوزیشن اراکین نے پوسٹرز کے ساتھ احتجاج کیا جن پر لکھا تھا: “عصمت دری، قتل اور اغوا کب رکے گا؟ قانون ہے لیکن مجرموں میں خوف نہیں، جواب دو حکومت۔”اس دوران ایم پی پپو یادو کی گرفتاری کا معاملہ بھی ایوان میں گونجا۔ چنپٹیا سے کانگریس ایم ایل اے ابھیشیک رنجن ایک مخصوص ٹی شرٹ پہن کر پہنچے تھے جس پر لکھا تھا: “آج جیل ہوئی، کل بیل ہوئی، پرسوں سے وہی کھیل ہوئی”۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پپو یادو کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہیں کانگریس ایم ایل اے قمر الہدیٰ نے پپو یادو کی گرفتاری کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہار میں جمہوریت کے بجائے “بادشاہت” قائم ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ نیٹ (NEET) طالبہ کی موت پر بھی اپوزیشن نے حکومت سے جواب طلب کیا۔مجموعی طور پر بجٹ اجلاس کا یہ دن تلخ جملوں اور سیاسی محاذ آرائی کی نذر رہا، جہاں حکومت دفاعی پوزیشن پر نظر آئی اور اپوزیشن نے لاء اینڈ آرڈر کے معاملے پر جارحانہ رخ اختیار کیے رکھا۔
