ڈائریکٹر زراعت نے کھاد کمپنیوں اور تھوک فروشوں کو جاری کیں سخت ہدایات
جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ، 13 اپریل: ریاست بہار کے ڈائریکٹر زراعت سوربھ سمن یادو کی صدارت میں آج میٹھاپور کے زرعی بھون میں ایک انتہائی اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ریاست کے تمام بڑے کھاد فروشوں اور مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس میٹنگ کا بنیادی مقصد آئندہ خریف سیزن کے دوران کسانوں کو کھاد کی بلاتعطل فراہمی اور مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانا تھا۔ ڈائریکٹر زراعت نے کھاد فروشوں کو مطلع کیا کہ اس وقت ریاست کے پاس 2.84 لاکھ ٹن یوریا کا وافر اسٹاک موجود ہے اور اب اصل چیلنج اس کا صحیح اور شفاف طریقے سے استعمال کرنا ہے۔ انہوں نے تمام دکانداروں کو ہدایت دی کہ وہ کھاد کی فروخت پر کڑی نظر رکھیں اور مکمل جانچ پڑتال کے بعد کسانوں کو ان کی ضرورت کے مطابق ہی یوریا فراہم کریں تاکہ ذخیرہ اندوزی کا راستہ روکا جا سکے۔سوربھ سمن یادو نے کھاد کمپنیوں کو دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی کہ وہ کسانوں کو مناسب اور مقررہ قیمت پر کھاد کی فراہمی یقینی بنائیں اور اس معاملے میں کسی بھی سطح پر غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی تھوک فروش، خوردہ دکاندار یا کوئی بھی سرکاری افسر بدعنوانی، زائد قیمتوں کی وصولی یا مصنوعی قلت پیدا کرنے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف فوری اور سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی متبادل کھادوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی پر زور دیا گیا تاکہ کیمیائی کھادوں پر کسانوں کا انحصار کم ہو سکے اور زمین کی زرخیزی برقرار رہے۔
میٹنگ میں ایک اہم مسئلہ ‘ٹیگنگ ‘ کا اٹھایا گیا جس پر ڈائریکٹر زراعت نے سخت ہدایت دی کہ کوئی بھی کمپنی یا تھوک فروش یوریا کے ساتھ زبردستی کوئی دوسرا غیر ضروری پروڈکٹ فروخت نہیں کرے گا۔ تمام سپلائرز کو پابند کیا گیا کہ وہ ‘فریٹ آن ریٹ ‘ پر کھاد کی سپلائی یقینی بنائیں اور چونکہ ابھی فصل کا باقاعدہ سیزن شروع ہونے میں کچھ وقت باقی ہے اس لیے ضلع اور ریاست کی سطح پر کھادوں کی محفوظ ذخیرہ اندوزی پر توجہ دی جائے۔ اس مشاورتی میٹنگ میں ہر ضلع سے منتخب پانچ پانچ تھوک فروشوں اور ملک کی نامور کھاد کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی تاکہ کسانوں کو سیزن کے دوران کسی بھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
