ہومBiharسماجی انصاف اور مساوی تعلیم ہی ہماری سیاست کا محور ہے: ڈاکٹر...

سماجی انصاف اور مساوی تعلیم ہی ہماری سیاست کا محور ہے: ڈاکٹر سنتوش کمار سمن

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

پٹنہ: 16 جنوری ہندستانی عوامی مورچہ (ایس) نے تنظیم کو نچلی سطح تک مضبوط بنانے کے لیے اپنی ملک گیر رکنیت سازی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ پٹنہ میں 12-ایم اسٹرینڈ روڈ پر واقع پارٹی دفتر میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں پارٹی کے قومی صدر اور بہار کے وزیر ڈاکٹر سنتوش کمار سمن نے مہم کا افتتاح کیا۔ یہ مہم 14 اپریل 2026 یعنی بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے یومِ پیدائش تک جاری رہے گی۔تعلیم اور سماجی انصاف پر زور اس موقع پر ڈاکٹر سنتوش کمار سمن نے کہا کہ پارٹی کا مقصد بابا صاحب کے خیالات کو غریبوں، دلتوں اور پسماندہ طبقات تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا، “چاہے صدر کا بیٹا ہو یا کسی صفائی کارکن کا بچہ، سب کو مساوی تعلیم اور مواقع ملنے چاہئیں۔ جب تک معاشرے کی آخری صف میں کھڑے شخص تک معیاری تعلیم نہیں پہنچتی، حقیقی سماجی انصاف ناممکن ہے۔” انہوں نے بتایا کہ بہار میں 10 لاکھ اور ملک بھر میں 50 لاکھ نئے اراکین بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
تنظیمی توسیع اور نئی شمولیتیں پارٹی کے ریاستی صدر ڈاکٹر انیل کمار نے کہا کہ یہ مہم نوجوانوں اور خواتین کو پارٹی سے جوڑنے کی ایک عوامی تحریک ثابت ہوگی۔ اس موقع پر جہان آباد کی سابق ضلع پریشد صدر سنگیتا سنگھ، کانگریس کے سابق ضلع انچارج سنجے بھارتی اور جان سوراج کے کئی بانی اراکین سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ خاص بات یہ رہی کہ ڈاکٹر ورون کمار کی قیادت میں ڈاکٹروں کے ایک بڑے گروپ نے بھی پارٹی کی رکنیت حاصل کی۔ملک گیر مہم پارٹی کے تمام اضلاع میں ضلع صدور کی قیادت میں یہ مہم بیک وقت شروع کی گئی ہے۔ تقریب میں پارٹی کے ارکان اسمبلی، قومی و ریاستی عہدیداروں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور عزم ظاہر کیا کہ وہ بوتھ کی سطح تک جا کر پارٹی کے نظریات کو عام کریں گے۔ پروگرام کی نظامت قومی جنرل سکریٹری راجیش پانڈے نے انجام دی۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version