ہومBiharراجیہ سبھــا میں سنجے یادو کـی دہــاڑ:

راجیہ سبھــا میں سنجے یادو کـی دہــاڑ:

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

بہار کے 1 لاکھ 79 ہزار 900 کروڑ کے پیکیج کا مطالبہ

کہا:بہار تنظیم نو ایکٹ کے 26 سال: واجپئی حکومت کا وعدہ مودی حکومت میں بھی ادھورا

جدید بھارت نیوز سروس
مظفرپور،3اپریل(راست)راشٹریہ جنتا دل کے ممبر آف پارلیمنٹ(راجیہ سبھا) سنجے یادو نے راجیہ سبھا میں آندھرا پردیش تنظیمِ نو (ترمیمی) بل 2026 پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ آج سے 26 سال قبل، 25 اپریل 2000 کو جب ایوان میں بہار تنظیمِ نو ایکٹ پر 9 گھنٹے طویل بحث ہوئی تھی، تو راشٹریہ جنتا دل کے زبردست مطالبے اور دباؤ کے نتیجے میں اُس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے بہار تنظیمِ نو ایکٹ 2000 میں یہ التزام شامل کیا تھا کہ ریاست کی تقسیم کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے مرکزی حکومت خصوصی مالی انتظامات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اُس وقت راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو اور بہار کی اُس وقت کی وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی نے بہار کے لیے 1 لاکھ 79 ہزار 900 کروڑ روپے کے خصوصی مالیاتی پیکیج کا مطالبہ کیا تھا، جس کی کانگریس، سماجوادی پارٹی، بائیں بازو کی جماعتوں اور موجودہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی اُس وقت کی جماعت سمتا پارٹی نے بھی حمایت کی تھی۔سنجے یادو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہار کو آج تک یہ 1,79,900 کروڑ روپے کا مالیاتی پیکیج، جو اس کا حق ہے، فراہم نہیں کیا گیا، حالانکہ گزشتہ 21 برسوں سے ریاست میں اور گزشتہ 12 برسوں سے مرکز میں این ڈی اے کی حکومت قائم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت مرکز کی مودی حکومت بہار اور آندھرا پردیش کی حمایت سے چل رہی ہے۔انہوں نے ٹی ڈی پی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں اس نے آندھرا پردیش کے لیے دو لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی مالی امداد اور کئی بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مرکز سے حاصل کیے ہیں، بلکہ مرکز کو مجبور بھی کیا ہے کہ وہ آندھرا پردیش تنظیمِ نو قانون میں ریاستی مفاد کے تحت ترمیم کرے۔
سنجے یادو نے سوال اٹھایا کہ بہار کے این ڈی اے ارکانِ پارلیمان اس وقت کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ خصوصی ریاست کے درجے اور خصوصی پیکیج کے بجائے انہیں صرف مکھانا بورڈ جیسے معمولی معاملے پر ٹال دیا گیا ہے، جو پہلے سے موجود تھا۔ انہوں نے جے ڈی یو کے ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ ٹی ڈی پی سے سبق سیکھیں کہ کس طرح اپنے صوبے کے حقوق کے لیے مؤثر جدوجہد کی جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بہار کو کچھ دینے کے بجائے اب تو جے ڈی یو کے وزیر اعلیٰ کو ہٹانے کی تیاریاں بھی مکمل ہو چکی ہیں۔ سنجے یادو نے زور دے کر کہا کہ جے ڈی یو کو چاہیے کہ وہ ٹی ڈی پی کی طرح اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے بہار کے لیے برسوں سے زیرِ التوا 1 لاکھ 79 ہزار 900 کروڑ روپے کے پیکیج کو یقینی بنائے۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ افراطِ زر کے پیشِ نظر آج اس رقم کی قدر کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔آخر میں سنجے یادو نے کہا کہ ریاستی تنظیمِ نو کے قوانین میں کسی بھی ترمیم کی بنیاد عوامی رائے شماری ہونی چاہیے، کیونکہ بصورتِ دیگر مستقبل میں کوئی بھی نئی حکومت دارالحکومت کے مسئلے کو لے کر ایک نیا ترمیمی بل لاسکتی ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.