وزیر زراعت نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر، سائنسدانوں اور محققین کو مبارکباد دی
جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ، 12 جنوری: عزت مآب وزیر زراعت رام کرپال یادو نے بتایا کہ بہار زرعی یونیورسٹی، سبور نے زرعی بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی تیار کردہ اختراع “A Growth Media Composition for Rapid in-vitro Direct Organogenesis of Saffron” کو حکومت ہند کے پیٹنٹ آفس نے 09 جنوری 2026 کو پیٹنٹ فراہم کر دیا ہے۔
یہ کامیابی نہ صرف بہار بلکہ ملک بھر میں زرعی تحقیق اور قیمتی فصلوں کی ترقی کی سمت میں ایک اہم سنگ میل ہے۔اس قابل فخر موقع پر وزیر زراعت نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر، سائنسدانوں اور محققین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیٹنٹ یونیورسٹی کی سائنسی مہارت اور عزم کا ثبوت ہے۔ زعفران جیسی مہنگی فصل کے لیے تیار کردہ یہ ‘ان وٹرو ‘ تکنیک مستقبل میں کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور زراعت میں تنوع لانے میں معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے اسے وزیر اعظم نریندر مودی کے ‘آتم نربھر بھارت ‘ اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ‘کسان خوشحالی ‘ وژن کے عین مطابق قرار دیا۔وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ زعفران دنیا کے مہنگے ترین مسالوں میں سے ایک ہے، جس کی کاشت اب تک مخصوص علاقوں تک محدود تھی۔
یونیورسٹی کا تیار کردہ یہ ‘گروتھ میڈیا کمپوزیشن ‘ زعفران کی تیز رفتار اور کنٹرولڈ افزائش کو ممکن بناتا ہے، جس سے کم وقت میں بڑی تعداد میں بیماریوں سے پاک اور معیاری پودے تیار کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ بہار کی آب و ہوا میں کھلے کھیتوں میں زعفران کی کاشت مشکل ہے، لیکن محفوظ ماحول (پولی ہاؤس اور نیٹ ہاؤس) میں اس جدید تکنیک کے ذریعے اسے مکمل طور پر ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے کسانوں کو بیجوں کی کمی کے مسئلے سے نجات ملے گی اور پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔ حکومت اس کامیابی کو کسانوں تک پہنچانے کے لیے تربیتی پروگرام اور پائلٹ پروجیکٹس بھی شروع کرے گی، تاکہ دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکیں اور ملکی معیشت مستحکم ہو۔
