متاثرہ کو 5 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا دیا حکم
پٹنہ، 12 جنوری(ایجنسی): پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار پولیس کی ایک سنگین لاپرواہی پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ دراصل بہار کے مدھے پورہ ضلع میں ایک 15 سالہ نابالغ کو پولیس نے گرفتار کر لیا، اور ساتھ ہی ڈھائی ماہ تک جیل میں بند رکھا۔ پٹنہ ہائی کورٹ نے اس گرفتاری کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا ہے، اور ساتھ ہی بہار حکومت کو 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔واضح رہے کہ یہ فیصلہ 9 جنوری کو جسٹس راجیو رنجن پرساد اور جسٹس رتیش کمار کی بنچ نے سنایا۔ عدالت نے نابالغ لڑکے کے اہل خانہ کی جانب سے دائر کی گئی ‘بندی پرتیکشیکرن ‘ (Habeas Corpus) عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ صادر کیا۔بنچ نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ یہ غیر قانونی گرفتاری کا معاملہ ہے۔ ایسی صورتحال میں ایک آئینی عدالت خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔ پٹنہ ہائی کورٹ نے نابالغ لڑکے کی گرفتاری کو غلط قرار دیتے ہوئے اسے 5 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا۔ فی الحال یہ جرمانہ بہار حکومت ادا کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی متاثرہ خاندان کے کیس لڑنے پر خرچ ہونے والے 15,000 روپے بھی الگ سے ادا کرنے کا حکم سنایا گیا۔اس کے علاوہ پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کرائیں اور قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جرمانے کی رقم قصوروار افسران سے وصول کی جائے گی۔
