مولانا مظہرالحق عربی وفارسی یونیورسٹی پٹنہ کے شعبۂ اردو کی جانب سے’مولانا ابوالکلام آزاد کا نظریۂ تکثیریت ‘ کے عنوان سےیادگاری خطبہ
پٹنہ18 فروری (راست): مولانا مظہرالحق عربی وفارسی یونیورسٹی میٹھاپور ،پٹنہ کے شعبۂ اردو کی جانب سے’مولانا ابوالکلام آزاد کا نظریۂ تکثیریت ‘ کے عنوان سے یادگاری خطبہ کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر متھلایونیورسٹی کے سابق رجسٹرار اور سی ایم کالج دربھنگہ کے پرنسپل پروفیسر مشتاق احمد نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کا نظریۂ تکثیریت نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے بلکہ جدید جمہوری معاشروں کے لیے بھی رہنمائی کا مؤثر سرچشمہ ہے۔پروفیسرمشتاق احمد نے کہا کہ مولانا آزاد کے نظریۂ تکثیریت کی جھلک ان کی شہرۂ آفاق تفسیر’ترجمان القرآن‘ میں بھی نمایاں طور پر ملتی ہے، جہاں انہوں نے قرآن کی آیات کی تشریح کرتے ہوئے مذہبی رواداری، انسانیت اور اتحاد کا درس دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام کسی بھی قسم کی تنگ نظری یا تعصب کی حمایت نہیں کرتا بلکہ تمام انسانوں کے ساتھ عدل اور مساوات کا حکم دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی میدان میں بھی مولانا آزاد نے تکثیری اقدار کا عملی نمونہ پیش کیا۔ وہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں صفِ اول کے رہنما رہے اور فرقہ وارانہ سیاست کی سخت مخالفت کی۔ ان کا موقف تھا کہ مذہب کو سیاست کا ہتھیار بنانے سے معاشرہ تقسیم کا شکار ہوجاتا ہے، اسی لیے انہوں نے ہمیشہ قومی اتحاد، بھائی چارے اور مشترکہ جدوجہد پر زور دیا۔انہوں نے ابوالکلام آزاد نے اپنی فکری کاوشوں کے ذریعے یہ واضح کیا کہ ہندوستان ایک کثیر المذاہب، کثیر الثقافتی اور کثیر اللسانی معاشرہ ہے، جہاں مختلف مذاہب اور تہذیبیں صدیوں سے ایک ساتھ پروان چڑھتی آئی ہیں۔ ان کے نزدیک تکثیریت کا مطلب یہ نہیں کہ اختلافات کو مٹایا جائے، بلکہ اس کا مقصد اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے باہمی احترام اور اشتراک کی فضا قائم کرنا ہے۔انہوںنے’ترجمان القرآن‘، ’الہلال‘، ’غبار خاطر‘ اور ان کے خطبات کے حوالوں سے کہا کہ مولانا آزاد نے اپنی تحریروں، خطبات اور سیاسی جدوجہد کے ذریعےمشترکہ قومیت کا تصور پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی قومیت کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ مشترکہ تاریخ، ثقافت اور جغرافیہ ہے۔ ان کے نزدیک مسلمان اور ہندو دونوں ایک ہی وطن کے فرزند ہیں اور ان کی تقدیر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔مولانا آزاد دنیا کے چند ایسی شخصیتوں میں شامل ہیں جن کے افکارونظریات کی اہمیت مسلم رہی ہے۔ انہوں نے موجودہ حالات پس منظر میں کہا کہ جب ملک میں مذہبی اور ذاتی تنازعات بڑھ رہے ہیں، مولانا آزاد کا نظریۂ تکثیریت مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ معاشرتی استحکام صرف اسی وقت ممکن ہے جب مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے ماننے والے ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور باہمی مکالمے کو فروغ دیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی میدان میں بھی مولانا آزاد کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ وہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم تھے اور انہوں نے ملک میں جدید تعلیمی اداروں کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جو معاشرے میں شعور، برداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دے سکتی ہے۔ ان کے نزدیک تکثیریت کی کامیابی کا انحصار بھی تعلیم اور فکری وسعت پر ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد نے اپنے نظریۂ تکثیریت کی بنیاد قرآن، تاریخ اور ہندوستانی معاشرتی حقیقتوں پر رکھی۔ انہوں نے مذہب کو روحانی اور اخلاقی رہنمائی کا ذریعہ قرار دیا، نہ کہ سیاسی تقسیم کا۔ ان کا خیال تھا کہ ایک صحت مند معاشرہ وہی ہے جہاں ہر فرد کو اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے قومی دھارے میں شامل ہونے کا موقع ملے۔شعبۂ ارد و کے استاذ اور سابق ایم ایل ڈاکٹر شکیل احمد خان نے۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء تک کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد کا نظریہ آج کے بھارت سمیت پوری دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اتحاد اور تنوع ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل ہیں۔آخر میںصدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر محمد عالمگیر نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کا نظریۂ تکثیریت صرف ایک سیاسی نظریہ نہیں بلکہ ایک جامع فکری و اخلاقی فلسفہ ہے، جو انسانیت، رواداری اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہے۔ موجودہ حالات میں اس نظریے کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، تاکہ معاشرے میں امن، استحکام اور ترقی کو یقینی بنایاجاسکے۔پروگرام کا آغاز جامعہ کے ترانہ سے ہوا۔ پروگرام کی نظامت شعبۂ اردو کے صدر ڈکٹر توقیر عالم توقیر اور صدارت وائس چانسلر پروفیسر محمد عالمگیر نے کی۔اظہار تشکر ڈاکٹرانوارالحق نے کیا۔مولاناابوالکلام آزاد کے حالات پر انیسہ مکی، شاذیہ پروین اور طلعت جبیں نے مقالے پیش کیے۔ وہیں یاور راشد نے مولانا آزاد کی خدمات پر نظم پیش کی۔پروگرام میںڈاکٹر محفوظ الرحمٰن ، ڈاکٹر تحسین زماں، ڈاکٹرانوارالحسن، ڈاکٹر ممتاز مصباحی،ڈاکٹر چندیشوری، ڈاکٹر ابرارالحق، ڈاکٹر جاوید اختر، ڈاکٹر طارق ، ڈاکٹر کرشنا، ڈاکٹر نکھل آنندگری، ڈاکٹر ابصار عالم،ڈاکٹر مکتا سنہا، ڈاکٹر جمشید کے علاوہ طلبہ وطالبات کی بڑی تعداد موجودتھی۔
