زمین کے فرضی کاغذات دیے تو جانا پڑے گا جیل: نائب وزیر اعلیٰ
پٹنہ، 4 جنوری(ایجنسی): بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر محصولات و اصلاحاتِ اراضی وجے کمار سنہا نے ہفتہ کو کہا کہ زمین سے متعلق معاملات میں جعلی اور من گھڑت دستاویزات کی بنیاد پر کھیل اب کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سنہا نے کہا کہ چاہے وہ نامانترن ہو، داخل خارج ہو یا سرکاری زمین کا معاملہ، فرضی کاغذات سامنے آتے ہی متعلقہ شخص کے خلاف مجرمانہ کارروائی لازمی ہوگی۔وجے کمار سنہا نے کہا کہ سرکل آفیسر (CO) خود ایف آئی آر درج کرائیں گے اور کسی بھی سطح پر لاپرواہی یا تحفظ فراہم کرنے کو سنگین بدعنوانی مانا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ زمین مافیا، دلالوں اور دھوکہ دہی کرنے والوں کے خلاف حکومت کی پالیسی واضح ہے اور اس سلسلے میں ‘زیرو ٹولرینس ‘ کے ساتھ قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ محکمہ کے سکریٹری گوپال مینا نے تمام سرکل افسران کو خط لکھ کر واضح ہدایت دی ہے کہ اگر کسی بھی لینڈ ریونیو کارروائی میں جعلی، من گھڑت یا جھوٹی دستاویزات پیش کرنے کی بات بادی النظر (Prima facie) میں سامنے آتی ہے، تو متعلقہ شخص کے خلاف ‘بھارتیہ نیائے سنہتا، 2023’ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقامی تھانے میں لازمی طور پر ایف آئی آر درج کرائی جائے۔ یہ ہدایت نائب وزیر اعلیٰ سنہا کی پہل پر جاری ‘بھومی سدھار جن کلیان سمواد ‘ کے دوران سامنے آنے والے حقائق کے بعد جاری کی گئی ہے۔
محکمہ کے مطابق، نامانترن، داخل خارج، پریمارجن پلس، بندوبستی، حد بندی، لینڈ ایکوزیشن اور عوامی زمین سے جڑے معاملات میں کئی بار فرضی دستاویزات پیش کر کے انتظامیہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو سنگین مجرمانہ فعل کے زمرے میں آتا ہے۔ سکریٹری نے اپنے حکم میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ ماضی کے جائزہ اجلاسوں میں ایسے معاملات سامنے آنے کے باوجود کئی مقامات پر سرکل کی سطح سے ایف آئی آر درج نہیں کرائی گئی، جسے سنگین لاپرواہی مانا گیا ہے۔ حکم نامے میں بھارتیہ نیائے سنہتا، 2023 کی جن دفعات کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے، ان میں جعل سازی، جعلی دستاویز کا استعمال، دھوکہ دہی، نقصان رسانی (Mischief) اور مجرمانہ سازش سے متعلق دفعات شامل ہیں۔ ہدایت کے مطابق، سرکاری زمین سے جڑے معاملات میں متعلقہ سرکل آفیسر خود مقامی تھانے میں ایف آئی آر درج کرائیں گے۔ نجی یا رائتی زمین کے تنازع میں جانچ کے بعد سرکل آفیسر یا ریونیو آفیسر کی سفارش پر مدعی کی درخواست کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جعلی دستاویز کی بنیاد پر کوئی حکم جاری نہ کیا جائے۔ اگر ماضی میں ایسا کوئی حکم جاری ہو چکا ہے، تو اس کا قانونی جائزہ لے کر ضابطے کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے۔ ایسے معاملات میں ایف آئی آر درج نہ کرنا یا معاملے کو دبانے کی کوشش کرنا فرض میں غفلت اور بدعنوانی تصور کیا جائے گا۔ اس کے لیے متعلقہ سرکل آفیسر ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں گے۔ محکمہ نے تمام ڈویژنل کمشنرز، کلکٹرز، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور لینڈ ریفارمز ڈپٹی کلکٹرز کو بھی اس حکم کی کاپی بھیجتے ہوئے ضروری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔
