پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کر دی گئیں
جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ،20 مارچ : جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے ساتھ تصادم کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے سمستی پور کے بہادر سپوت سیتا رام رائے (40) کی آج ان کے آبائی گاؤں لودی پور (موروا) میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کی گئیں۔ شہادت کے اس پُر وقار لیکن غمگین لمحے میں ان کے 6 سالہ چھوٹے بیٹے سوشانک نے اپنے شہید والد کو مکھ اگنی (لگا کر آخری وداع) دی۔ والد کو آخری رخصت دیتے وقت معصوم بیٹے اور وہاں موجود لوگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن سینہ فخر سے چوڑا تھا۔ جمعہ کی صبح جیسے ہی شہید کا جسدِ خاکی ان کے آبائی گاؤں پہنچا، پورے علاقے میں ‘وندے ماترم ‘ اور ‘شہید سیتا رام امر رہیں ‘ کے نعرے گونجنے لگے۔ تقریباً ایک کلومیٹر طویل آخری یاترا میں ہزاروں کا ہجوم امنڈ پڑا، جس میں مقامی ایم ایل اے رن وجے ساہو، ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) روشن کشواہا اور فوج کے اعلیٰ حکام شامل ہوئے۔ شہید کی اہلیہ سمن رائے کا رو رو کر برا حال تھا۔ وہ بار بار بے سودھ ہو کر ضلع مجسٹریٹ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے بچوں کے مستقبل کی دہائی دے رہی تھیں۔ اہل خانہ نے بتایا کہ سیتا رام خاندان کا واحد سہارا تھے۔ ان کے والد نے کولکاتہ میں ٹھیلہ چلا کر انہیں فوج میں بھرتی کرایا تھا۔ بھائی شیوانند نے رندھے ہوئے گلے سے بتایا کہ سیتا رام اپریل میں گھر آنے والے تھے، انہیں اپنے معذور بھتیجے کا علاج کرانا تھا اور نیا گھر بھی بنوانا تھا، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ شہید کے دوست سرویندو کے مطابق، بدھ کی صبح ڈیوٹی پر نکلنے سے پہلے سیتا رام نے اہلیہ سے ویڈیو کال پر بات کی تھی۔ اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد صبح 11 بجے یونٹ سے اطلاع آئی کہ مقابلے میں انہیں گولی لگی ہے اور بعد میں ان کے شہید ہونے کی خبر نے پورے گاؤں کو سکتے میں ڈال دیا۔
