104 ہیلپ لائن سے مشاورتی سہولت ہوگی دستیاب :منگل پانڈے
پٹنہ: وزیر صحت منگل پانڈے نے کہا ہے کہ ریاست میں بڑھتی ہوئی گرمی اور ہیٹ ویو (لو) کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر محکمہ صحت نے وسیع پیمانے پر تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ گرمی سے ہونے والی بیماریوں کی مسلسل نگرانی ضروری ہے، جس کے لیے ریاست میں ‘قومی موسمیاتی تبدیلی اور انسانی صحت پروگرام ‘ کے تحت تیار کردہ رہنما خطوط پر عمل درآمد پر خصوصی زور دیا جا رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ہیٹ سے متعلقہ بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن)، سر درد، لو لگنا، ہیٹ کریمپس اور برین اسٹروک جیسے صحت کے مسائل شامل ہیں۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع میں ہسپتالوں کی گنجائش کے مطابق ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کے لیے کم از کم پانچ مخصوص (Dedicated) بستروں کا انتظام، وافر ادویات، او آر ایس، آئس پیک، ٹھنڈا پانی، اینٹی ڈائرئیل ڈرگز، پنکھے، کولر اور دیگر ضروری وسائل فراہم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ساتھ ہی تمام بلاک سطح کے ہسپتالوں میں مذکورہ لاجسٹک کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ضلعی سطح پر ‘ریپڈ رسپانس ٹیم ‘ کو متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔ پانڈے نے کہا کہ تمام ہسپتالوں کو گرمی شروع ہونے سے پہلے مائیکرو پلان تیار کرنے اور صحت کے عملے کا روسٹر بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ او پی ڈی میں آنے والے مریضوں کی ہیٹ ویو کی علامات کی جانچ لازمی قرار دی گئی ہے اور انتظار گاہوں میں ٹھنڈے پینے کے پانی اور کولنگ کا انتظام یقینی بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ہر طبی ادارے میں او آر ایس کارنر قائم کیا جائے گا۔ میڈیکل کالجوں، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو ہیٹ ویو سے متعلق علاج کے پروٹوکول کی تربیت دی جا رہی ہے۔ وہیں آشا کارکنوں کو بھی کمیونٹی کی سطح پر بیداری پھیلانے کے لیے تربیت دی جا رہی ہے تاکہ لوگ وقت رہتے احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔
پانڈے نے مزید کہا کہ 5 سال سے کم عمر کے بچوں، حاملہ خواتین اور بزرگوں جیسے حساس گروہوں کے لیے ہیٹ سے متعلقہ بیماریوں کی مؤثر روک تھام اور انتظام کے لیے خصوصی آگاہی مہم چلائی جائے گی۔ عام لوگوں کو شدید گرمی سے بچنے کے لیے ‘کیا کریں اور کیا نہ کریں ‘ کی معلومات دی جائیں گی۔ ابتدائی مشورے کے لیے 104 ہیلپ لائن کے ذریعے مفت مشاورت لینے کے لیے بیداری مہم چلائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ایمبولینس خدمات کو مضبوط بناتے ہوئے ضرورت پڑنے پر مریضوں کو ریفرل سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ حکومت کا ہدف ہے کہ بروقت تیاری کر کے شدید گرمی سے پیدا ہونے والے صحت کے مسائل کی روک تھام اور علاج فراہم کیا جا سکے۔
