وزیر زراعـت رام کـرپال یادو کا بڑا بیان
پٹنہ، 6 اپریل:بہار کے وزیر زراعت جناب رام کرپال یادو نے ریاست میں امرود کی کاشت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہار کے مختلف موسمی حالات امرود کی پیداوار کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امرود محض ایک پھل نہیں بلکہ یہ غذائی تحفظ، کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور زراعت میں تنوع لانے کا ایک طاقتور ذریعہ بن کر ابھر رہا ہے۔ وزیر موصوف کے مطابق امرود ایک ایسی کم لاگت والی باغبانی فصل ہے جسے ہلکی ریتلی سے لے کر بھاری دو مٹ مٹی تک ہر جگہ کامیابی سے اگایا جا سکتا ہے، اور یہ خشک سالی کو برداشت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔وزیر زراعت نے بتایا کہ امرود کی مانگ پورا سال برقرار رہتی ہے، جس کی وجہ سے کسانوں کو باقاعدہ اور مستحکم آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، امرود سے جیم، جیلی، جوس اور اسکوائش جیسے پراسیس شدہ مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف پھلوں کی قیمت میں اضافہ (Value Addition) ہوتا ہے بلکہ دیہی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔رام کرپال یادو نے ‘مشن فار انٹیگریٹڈ ڈیولپمنٹ آف ہارٹیکلچر ‘ (MIDH) کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امرود کے باغات لگانے کے لیے فی ہیکٹر تخمینہ لاگت تقریباً 1.0 لاکھ سے 1.2لاکھ روپے تک آتی ہے۔ حکومت اس پر عام طور پر 40 فیصد تک سبسڈی فراہم کر رہی ہے، تاکہ کسانوں کو ابتدائی سرمایہ کاری میں مدد مل سکے اور باغبانی کو فروغ دیا جا سکے۔
غذائیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امرود وٹامن سی، فائبر، کیلشیم اور فاسفورس سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ انسانی قوت مدافعت بڑھانے، نظام ہاضمہ درست رکھنے اور دل کی صحت کو بہتر بنانے میں انتہائی معاون ثابت ہوتا ہے۔وزیر موصوف نے مزید کہا کہ روایتی فصلوں کے ساتھ ساتھ پھلوں کی کاشت کو فروغ دینے سے کسانوں کے معاشی خطرات کم ہوں گے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بھی تحفظ ملے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امرود جیسی کم لاگت اور زیادہ منافع بخش فصلیں “خود کفیل کسان اور خوشحال بہار” کے ہدف کو حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔
