ہومBiharجھارکھنڈ میںSIR سے قبل امارت شرعیہ کی بڑی بیداری مہم کا آغاز

جھارکھنڈ میںSIR سے قبل امارت شرعیہ کی بڑی بیداری مہم کا آغاز

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

شہریت اور ووٹنگ حقوق کے تحفظ کے لیے نوجوانوں کی وسیع پیمانے پر تربیت کا فیصلہ

جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ/رانچی،3 دسمبر:جیسا کہ علم میں ہے کہ مرکزی حکومت نے SIR کے عمل کو تمام ریاستوں کے لیے لازمی قرار دے دیا ہے۔ مختلف مراحل میں الگ الگ ریاستوں میں اس عمل کو نافذ کیا جا رہا ہے۔ ریاست جھارکھنڈ میں بھی SIR ہونا ہے۔ لہٰذا عوام الناس کی سہولت کے پیش نظر حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب، امیر شریعت بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال نے اپنے پیغام میں کہا کہ موجودہ حکومت نے بغیر ضرورت SIR کو نافذ کیا ہے اور عوامی مخالفت کے باوجود اسے مؤثر بنائے رکھا گیا ہے، جبکہ اس کے پیچھے حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ووٹر آئی ڈی کو شہریت سے جوڑا جائے گا اور معمولی غلطی پر بھی شہریت پر سوال کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس لیے جھارکھنڈ میں SIR کی شروعات سے پہلے ہی عوام کو پوری طرح بیدار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسی مقصد سے امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ نے چار ارکان پر مشتمل ایک وفد تشکیل دیا ہے، جو ڈیڑھ ماہ تک ریاست کے تمام اضلاع میں مرحلہ وار نوجوانوں کو عملی اور قانونی تربیت فراہم کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان کم پڑھے لکھے اور عام لوگوں کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ آخر میں انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ ذات، قبیلہ اور مذہب سے اوپر اٹھ کر صرف اپنی شہریت کے تحفظ کے لیے اس تربیتی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔حضرت امیر شریعت کا مذکورہ پیغام مرکزی دارالقضا امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ کے قاضی شریعت حضرت مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی نے پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد امارت شرعیہ کے معاون سکریٹری مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نے 3 جنوری 2026 کو مسافر خانہ انجمن اسلامیہ ہال میں منعقدہ پریس کانفرنس میں موجود پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندوں سے کہا کہ حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کی ہدایت کے مطابق ریاست جھارکھنڈ میں ایک وسیع، منظم اور ہمہ گیر تربیتی مہم کا آغاز کیا جائے، جس کا مقصد پورے جھارکھنڈ میں ایک ایسی تربیت یافتہ ٹیم تیار کرنا ہے جو بغیر کسی مذہبی یا سماجی تفریق کے عوام کو SIR، پیرنٹل میپنگ، فارم-6 اور فارم-8 کے معاملات میں تعاون کر سکے، تاکہ جب SIR کا عمل شروع ہو تو ریاست کا کوئی بھی شہری اس کے دائرے سے باہر نہ رہ جائے۔انہوں نے کہا کہ اس مہم کے تحت پیرنٹل میپنگ اور فارم نمبر 6، 7 اور 8 سے متعلق موضوعات پر عوام میں مکمل اور عملی بیداری پیدا کی جائے گی، تاکہ جھارکھنڈ کا کوئی بھی شہری ووٹر لسٹ سے محروم نہ رہ جائے اور کسی بھی شخص کا نام ووٹر لسٹ میں درج ہونے سے نہ چھوٹ جائے۔اس کے لیے ریاست کے تمام اضلاع کے بلاکوں میں امارت شرعیہ کے قاضیوں کی نگرانی میں مختلف تاریخوں پر مرحلہ وار تربیتی ورکشاپس کا انتظام کیا گیا ہے، جہاں بڑی تعداد میں نوجوان طبقہ اور سماجی کارکن امارت شرعیہ کے اس وفد کے ذریعے SIR سے متعلق بنیادی معلومات حاصل کر سکیں گے اور کام کرنے کا صحیح طریقہ جان سکیں گے، جس سے انہیں SIR کے مختلف مراحل میں فارم بھرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حضرت امیر شریعت کے حکم کے مطابق اس مہم کے تحت پورے ایک ماہ تک ریاست کے ہر بلاک میں پہنچ کر تیار شدہ مواد کی مدد سے پروجیکٹر کے ذریعے نوجوانوں کی عملی تربیت کے لیے خصوصی ورکشاپس منعقد کی جائیں گی۔ ان میں تعلیم یافتہ، بیدار اور سماجی خدمت کے جذبے سے سرشار نوجوانوں کو میدان عمل میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا جائے گا۔ اس تربیتی مہم میں قبائلی برادریوں جیسے سنتھالی، اراؤں، ہو، منڈا اور کھڑیا کو بھی ان شاء اللہ تربیت دی جائے گی۔اس موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس میں مختلف ملی جماعتوں کے نمائندوں میں حاجی شاہ عمیر (جنرل سکریٹری، جمیعت علماء [میم])، ساجد انصاری (ذمہ دار، جماعت اسلامی شہر رانچی)، مولانا شفیق الیاوی (ذمہ دار، جمیعت اہل حدیث)، مختار احمد (صدر، انجمن اسلامیہ رانچی)، ڈاکٹر طارق حسین (سکریٹری، انجمن اسلامیہ رانچی)، تہذیب الحسن (نمائندہ، شیعہ جماعت)، مولانا صابر حسین مظاہری (صدر، مجلس علماء جھارکھنڈ) اور افضل انیس یونائیٹڈ ملی فورم موجود تھے، جنہوں نے میڈیا سے اس حساس موضوع پر بات چیت کی۔مختلف پنچایتوں سے اسلام صدر (ادریسیا پنچایت)، معراج گدی (صدر، گدی پنچایت)، سیف الحق (جنرل سکریٹری، عراقی پنچایت)، استخار عرف پپو (نائب صدر، رائن پنچایت)، مجید انصاری (صدر، جمیعت المومنین)، اسلام ہواری پنچایت، ایوب راجہ (صدر، پٹھان پنچایت)، رضوان (نائب صدر، جمیعت الانصار، ڈورنڈا مہا پنچایت)، حاجی مظہر (صدر، مرکزی پنچایت ڈورنڈا) موجود تھے۔دیگر مذہبی اور قبائلی تنظیموں کی جانب سے پرفل لنڈا (سماجی و سیاسی کارکن)، پربھاکر ترگی (سماجی کارکن)، رتن ترگی (آدیواسی)، جیوتی ماتھرو (جوائنٹ سکریٹری، مائنارٹی کمیشن)، پیٹر پرووین (سماجی کارکن)، پروفیسر ہربندر بیر سنگھ (سماجی کارکن)، محترمہ دیا منی بارلا (خاتون سماجی کارکن)، سسٹر لینا اور فادر ایلکس موجود تھے۔شہر کی معزز شخصیات میں شمیم علی (آمیہ تنظیم)، ایڈووکیٹ مختار (ریٹائرڈ اسسٹنٹ سالیسیٹر جنرل)، مفتی سلمان قاسمی (خطیب، مسجد طیب الہی بخش کالونی)، مولانا طلحہ ندوی (خطیب، مکہ مسجد ہندپیڑھی)، قاری انصار اللہ (خطیب، مدینہ مسجد ہندپیڑھی)، ابرار (ممبر وقف بورڈ)، حاجی حلیم الدین (رکن ارباب حل و عقد) بھی موجود تھے۔ملی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور مختلف قبائل سے موجود تمام شرکاء نے متفقہ طور پر کہا کہ موجودہ حالات میں یہ مہم انتہائی ضروری، بروقت اور مفاد عامہ سے جڑا ہوا قدم ہے، جس سے عام شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں عملی مدد ملے گی۔ ہم تمام لوگ امارت شرعیہ کی اس رہنما کوشش کا خیر مقدم کرتے ہیں۔پریس کانفرنس کے شرکاء نے واضح کیا کہ امارت شرعیہ کی یہ پہل پوری طرح اصلاحی، تعمیری اور مفاد عامہ پر مبنی ہے، جس کا کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی مفاد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ہندوستان کے شہریوں کی بے لوث خدمت پر مبنی ایک کوشش ہے۔ اس مہم کا مقصد صرف یہ ہے کہ جھارکھنڈ کا ہر شہری اپنے آئینی، سماجی اور باہمی حقوق سے واقف ہو اور ان کے تحفظ میں فعال کردار ادا کرے۔آخر میں امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ اور دیگر ملی جماعتوں، قبائل اور تنظیموں کے ذمہ داروں نے مشترکہ طور پر جھارکھنڈ کی عوام، بالخصوص نوجوانوں، سماجی کارکنوں، دانشوروں اور ذمہ دار شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس تربیتی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، مذہب سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کے کاموں میں تعاون کریں اور امارت شرعیہ کی اس اصلاحی و فلاحی کوشش کو کامیاب بنانے میں اپنا مکمل تعاون دیں۔اس پریس کانفرنس میں مرکزی دفتر امارت شرعیہ سے قاضی شریعت حضرت مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی، معاون سکریٹری مولانا احمد حسین قاسمی مدنی، ذمہ دار مکاتب امارت شرعیہ مولانا منت اللہ حیدری، قاضی شریعت دارالقضا امارت شرعیہ جمشید پور مولانا سعود عالم قاسمی، ریسرچ ٹیم کے ارکان مفتی قیام الدین قاسمی، مولانا اکرام الدین قاسمی، ڈاکٹر مولانا حفظ الرحمن حفیظ اور دارالقضا رانچی سے قاضی ابو داؤد قاسمی کے علاوہ شہر رانچی کے مختلف معززین اور ذمہ داران اور مختلف جماعتوں و تنظیموں کے نمائندے موجود تھے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version