سیکرٹری منوج کمار نے دیہی ترقی پر دیا زور
جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ، 16 مارچ : بہار میں دیہی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے اور مقامی سطح پر حکمرانی کے نظام کو مزید شفاف اور موثر بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے للت نارائن مشرا انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک ڈویلپمنٹ اینڈ سوشل چینج پٹنہ میں ایک جامع تربیتی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد پنچایتی راج نظام کے ڈھانچے کو مستحکم کرنا اور نچلی سطح پر کام کرنے والے انتظامی افسران کی پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافہ کرنا تھا تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس تقریب میں حکومت بہار کے محکمہ پنچایتی راج کے اعلیٰ حکام اور ماہرین نے شرکت کر کے اس کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اسے گڈ گورننس کی سمت میں ایک سنگ میل قرار دیا۔پروگرام کے مہمانِ خصوصی محکمہ پنچایتی راج کے سیکرٹری جناب منوج کمار (آئی اے ایس) نے اپنے کلیدی خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ پنچایتی راج ادارے دراصل دیہی ہندوستان کی ترقی اور جمہوری طرزِ حکومت کی اصل بنیاد ہیں اور جب تک نچلی سطح پر انتظامیہ متحرک اور باصلاحیت نہیں ہوگی تب تک سرکاری اسکیموں کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ سکتے۔ انہوں نے شرکاء کو ہدایت دی کہ وہ اس تربیت کے دوران حاصل ہونے والے علم اور تکنیکی مہارتوں کو میدانِ عمل میں لائیں تاکہ دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور فلاحی منصوبوں کا نفاذ شفافیت کے ساتھ ممکن ہو سکے۔ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر این وجے لکشمی (آئی اے ایس) نے کہا کہ بدلتے ہوئے دور میں افسران اور ملازمین کی صلاحیت سازی ناگزیر ہو چکی ہے کیونکہ ایسے تربیتی سیشنز نہ صرف افسران کے اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ انہیں پیچیدہ انتظامی مسائل کو حل کرنے کے جدید طریقے بھی سکھاتے ہیں۔اسی تسلسل میں محکمہ پنچایتی راج کے ڈائریکٹر نوین کمار سنگھ (آئی اے ایس) نے مقامی نظامِ حکومت کو مزید بااختیار بنانے اور وسائل کے صحیح استعمال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انسٹی ٹیوٹ کے رجسٹرار سدھیر کمار (بی اے ایس) نے تمام معزز مہمانوں کا استقبال کیا اور اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ انسٹی ٹیوٹ انتظامی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ ڈپٹی رجسٹرار ڈاکٹر پریتی سنگھ نے بھی مسلسل سیکھنے کے عمل کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ افسران کی بہتر کارکردگی ہی ریاست کی مجموعی ترقی کی ضامن ہے۔ پروگرام کے اختتام پر ماہرین نے شرکاء کے ساتھ مختلف سیشنز میں پنچایتی راج نظام سے متعلق عملی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ بہار حکومت نچلی سطح پر حکمرانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
